الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جى ہاں ايسا كرنا جائز ہے، كيونكہ جب قاضى كے پاس يہ ثابت ہو جائے كہ خاوند اور بيوى كے مابين بہتر طريقہ سے ازدواجى زندگى بسر كرنا مشكل اور مستحيل ہے، اور خاوند كى جانب سے بيوى كو چھوڑ كر جانے ميں اسے جنسى اور اقتصادى اور معاشرتى طور پر نقصان اور ضرر ہو رہا ہے تو وہ نكاح كو فسخ كر سكتا ہے.
كيونكہ قاضى كو سلطہ اور طاقت حاصل ہے، اور قاضى ہر معاملہ كو ديكھ كر اور اسے معلوم كر كے اور اس كے سارے حالات كى خبر حاصل كر كے پورا مقدمہ سن كر كوئى فيصلہ كريگا، اور وہاں خاوند كى غير موجودگى فسخ نكاح كى كاروائى ميں كوئى اثرانداز نہيں ہوگى.
حوالہ جات
close
ماخذ:
الشيخ ابراہيم الخضيرى
اسلام سوال و جواب
12179
والله اعلم.