الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر آپ كے خاوند نے عدالت سے رجوع كيا ہے يا پھر كسى اہل علم سے رجوع كيا اور اس نے طلاق واقع ہونے كا فتوى ديا ہے تو آپ اس فتوى كے مطابق اپنے خاوند كے ليے حلال نہيں ہيں.
اور اگر اس نے نہ تو كسى سے فتوى ليا ہے اور نہ ہى عدالت سے رجوع كيا ہے تو پھر ہمارا فتوى تو يہى ہے كہ حيض ميں طلاق واقع نہيں ہوتى، نہ ايک طلاق اور نہ ہى ايک سے زائد طلاق ہوتى ہے.
اور اگر طہر كى حالت ميں بھى تين طلاق اكٹھى دى جائيں تو يہ ايک طلاق ہى واقع ہوتى ہے، كيونكہ نبوى دور اور ابوبكر رضى اللہ تعالى عنہ كے دور اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے ابتدائى دور ميں اسى پر عمل رہا ہے.
لہذا اگر آپ كا خاوند اس فتوى پر عمل كرتا ہے، يا پھر اس نے طلاق واقع نہ ہونے والے قول كے قائل سے فتوى دريافت كيا تو آپ دونوں اپنے نكاح پر ہيں اور كوئى طلاق واقع نہيں ہوئى.
اور اگر وہ كسى ايسے عالم دين سے فتوى ليتا ہے جو حيض كى حالت ميں طلاق ہو جانے كا قائل ہے ليكن وہ ان تين طلاقوں كو ايک ہى شمار كرتا ہے تو اس طرح آپ كو ايک طلاق ہو جائيگى اور عدت كے اندر اندر آپ كا خاوند آپ سے رجوع كر سكتا ہے.
مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ مندرجہ ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ كريں:
( 72417 ) اور ( 36580 ) اور ( 147987 ) اور ( 96194 ) ان سوالات كے جوابات ميں اہل علم كے وہ اقوال بيان كيے گئے ہيں جن كا ہم ذكر كر چكےہيں.
واللہ اعلم
اسلام سوال و جواب
172162