سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
دونوں بیویوں کے خرچہ میں فرق ، اوربیوی کی پہلی پراولاد پر خرچ کرنا
  • 27888
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-22
  • مشاہدات : 62

سوال

میری دو بیویاں ہیں اوردونوں ہی علیحدہ علیحدہ مستقل گھروں میں رہائش پذیر ہیں ، میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ ان کے مابین مالی امور میں عدل وانصاف کروں ، ان میں سے ایک کے پہلے بھی دو بچے ہیں توکیا ان پر بھی مجھے خرچ کرنا واجب ہے ؟ اوریہ بھی ہے کہ مالی ضروریات ( مثلا غذا ، بجلی ، گیس ، اورنقل وحمل وغیرہ ) بھی دونوں گھروں کی مختلف ہيں ، توان میں میں کیسے عدل وانصاف کروں ؟

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

بیویوں کے نان ونفقہ اوررات بسرکرنے میں عدل انصاف کرنا واجب ہے ، لیکن جب ان میں کوئي ایک اپنے حق سے تنازل کرتے ہوئے اس ختم کردے توپھر اوربات ہے ، اوراسی طرح دونوں کی اولاد میں بھی عدل وانصاف سے کام لینا ہوگا ۔

اورآپ کی بیوی کے پہلے بچوں کا خرچہ آپ کے ذمہ واجب نہیں ، لیکن اگر ان پر خرچ کرنے والا کوئي نہیں توان کا خرچہ عام مسلمان برداشت کرینگے اورآپ بھی ان عمومی مسلمان میں شامل ہوتے ہيں ۔

اگرایک گھر کا خرچہ دوسرے گھر سے افراد کے زيادہ ہونے کی بنا پر مختلف ہوتو اس میں کوئي حرج والی بات نہیں ، لیکن خرچہ میں افراد کے حساب سے ہی زيادتی ہونی چاہیے ویسے نہيں ۔ .


الشيخ عبد الكريم الخضي

8416

تبصرے