سوال: بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم! فرض نماز کے دوران سورہ الغاشیہ کے اختتام پر ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم کے بعد الّلھم حاسبنی حسابا یسیرا پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؟ اسی طرح سورہ الاعلیٰ کی اس آیت: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعلٰی
جامع ترمذی میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے صحیح سند سے مروی ہے:
کہ ’’نبی کریمﷺ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور ان پر سورۃ الرحمٰن کی شروع سے آخر تک تلاوت فرمائی، وہ خاموش رہے (یعنی ادب و احترام اور خشوع وخضوع کے ساتھ سنتے رہے)، تو آپﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ الجن (جس رات نبی کریمﷺ جنوں کے پاس تعلیم کی غرض سے تشریف لے گئے تھے) کو میں نے یہ سورۂ مبارکہ جنوں پر تلاوت کی تو انہوں تم سے زیادہ اچھا ردِ عمل پیش کیا (یعنی تم نے خشوع وخضوع سے سنا جو اچھی بات ہے لیکن جنوں کا ردّ عمل تم سے بھی زیادہ اچھا تھا) کہ جب بھی میں
﴿ فبأي آلاء ربكما تكذبان ﴾
پڑھتا تو وہ کہتے کہ اے ہمارے رب! ہم تو آپ کی کسی نعمت کی بھی تکذیب نہیں کرتے، تمام تعریفیں آپ ہی کی ہیں۔‘‘ گویا نبی کریمﷺ نے جنوں کے آیاتِ کریمہ کے جواب دینے کو زیادہ بہتر ردّ عمل قرار فرمایا۔ یہاں نماز کا ذکر نہیں، لیکن اگلی حدیثِ مبارکہ میں نماز میں بھی جواب دینے کا ذکر موجود ہے۔
کہ ’’میں نے ایک رات نبی کریمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپﷺ نے سورۃ البقرہ شروع کی، میں نے سوچا کہ سو آیات پڑھیں گے! لیکن آپﷺ پڑھتے رہے، میں نے سوچا کہ سورۃ البقرہ ختم ہونے پر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ پڑھتے رہے، اور (سورۃ البقرہ کے بعد) سورۃ النساء شروع کی، اسے مکمل فرمایا تو سورۃ آل عمران شروع کی، اسے بھی مکمل پڑھ لیا۔ آپﷺ آہستہ آہستہ پڑھتے رہے جب کسی تسبیح والی آیت مبارکہ سے گزرتے تو اللہ کی تسبیح بیان فرماتے، جب کسی سوال (دعا) والی آیت کریمہ سے گزرتے تو (اللہ تعالیٰ سے) سوال کرتے، جب کسی پناہ والی آیت سے گزرتے تو پناہ مانگتے۔ پھر آپﷺ نے رکوع فرمایا اور اس میں سبحان ربي العظيم پڑھنا شروع کیا، یہ رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا۔ پھر آپﷺ نے سمع الله لمن حمده کہا اور بہت دیر تقریبا رکوع کے برابر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ فرمایا جس میں سبحان ربي الأعلى پڑھنا شروع کیا، یہ سجدہ تقریباً قومہ کے برابر تھا۔ جریر کی حدیث میں سمع الله لمن حمده کے بعد ربنا ولك الحمد کی زیادتی ہے۔‘‘