سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(453) ٹیپ ریکارڈنگ کے ذریعے اذان کہنا

  • 2738
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-14
  • مشاہدات : 768

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دفعہ اذان کو ٹیپ ریکارڈ کر لیا جائے اور پھر ٹیپ ریکارڈ اذان کو نمازوں کے اوقات کے لیے استعمال کرنا کیسا ہے۔ جواب تحریر کے کرکے ممنون فرمائیے۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ٹیپ ریکارڈ کی اذان ازروئے شرح شریف ناجائز اور بدعت سیئہ ہے اور اس کے ناجائزاور بدعت ہونے کی متعدد وجوہ ہیں۔
وجہ اول:… یہ اذان مسنون اذان کی ہیئت کذائی کے خلاف ہے۔ اور اذا ن کی ہیئت کذائی ایک واجب و چند سنن اور کچھ مستحبات پر مشتمل ہے جو یہ ہیں۔ اذان میں مؤذن کا قیام واجب ہے جیسے کہ حضرت عبد اللہ بن زید بن عبد ربہٖ کی ایک لمبی حدیث میں یہ الفاط موجود ہیں۔
فاخبرته بما رأیت فقلا انہا لرئیا حق انشاء اللّٰہ قم مع بلال (عون المعبود ص۱۸۸ جلد ۱)
’’میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ یہ خواب حق ہے۔ لہٰذا تم بلا ل رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز کے لیے اذان پڑھو۔‘‘
حضرت قاضی عیاض اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
فیہ حجة یشرع الاذان من قیام فانہ لا یجوز الاذان قاعد او ھو مذہب للعلماء کافة ( ابو ثور ص۱۶۴ جلد ۱)
’’ابو ثور کے علاوہ تمام علماء کا مذہب ہے کہ اذان پڑھتے وقت مؤذن کا کھڑا ہونا واجب ہے۔ اور بیٹھ کر اذان پڑھنا جائز نہیں اور یہ حدیث قیام کی واضح دلیل ہے۔‘‘
نیز بیہقی ، دارقطنی ، ابو شیخ نے وائل سے یہ روایت بھی نقل کی ہے۔
قال حق و سنة ان لا یؤذن الرجل الا وھو طاھر وَلا یؤذن الا وھو قائم  (تحفۃ الاحوذی ص ۱۷۹ جلد ۱)
’’یعنی اذان کا صحیح اور شرعی طریقہ یہ ہے کہ اذان کھڑے ہو کر باوضو پڑھنی چاہیے۔‘‘
اور الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ میں ہے:
اصل الحدیث عند مسلم من حدیث ابی قتادہ مفولا فی اٰخرہٖ یا بلال قم فاذن (حاشیہ ہدایہ ص۸۹)
واضح ہو کہ لفظ  ’’قم‘‘ امر کا صیغہ ہے اور امر بلا کسی قرینہ وجوب کے لیے ہوتا ہے لہٰذا قیام واجب ہے۔
اذان کی سنتیں:
(۱)     استقبال قبلہ:… حضرت معاذ بن جبل کی حدیث ہے کہ فرشتے نے قبلہ رُخ ہو کر اذان دی تھی۔ ملاحظہ ہوں اصل الفاظ  فاستقبل القبلة قال اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر ۔ عون ص ۱۹۷۔ فقہ حنفی کی آخری درسی کتاب ’’ہدایہ اولین‘‘ میں ہے۔
ویستقبل القبلة بھما لان النازل من السماء اذن مستقبل القبلہ (ہدایہ ص ۸۸، جلد نمبر ۱)
’’یعنی اذان اور تکبیر قبلہ کی طرف منہ کرکے پڑھنی چاہیے کیونکہ آسمان سے اترنے والے فرشتے (جبرئیل) نے قبلہ کی طرف رخ کر کے اذان پڑھی تھی۔‘‘
(۲)    کانوں میں انگلیاں ڈالنا:… اذان کی ایک یہ بھی مشہور سنت ہے کہ موذن اذان پڑھتے وقت کانوں میں انگلیاں ڈال کر اذان پڑھے۔
عن ابی حجیفة قال رأیت بلالا یؤذن ویدورد و یتبع فاہ الی ھٰھنا اصبعاہ فی اذنیہ و رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قبلة لہ حمراء
(تحفۃ الاحوذی ص۱۷۶ جلد۱)
’’حضرت ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال کو اذان پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنی انگلیوں کو کانوں میں ڈالے ہوئے دائیں بائیں رخ پھیرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ قبہ میں تشریف فرما تھے۔‘‘
نیز حضرت سعد رضی اللہ عنہ موذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت ہے کہ
ان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم امر بلالا ان یجعل اصبعیہ فی اذنیہ الخ (ابن ماجہ تحفۃ الاحوذی ص۱۷۶ جلد۱)
’’یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ کانوں میں انگلیاں ڈال کر اذان پڑھیں۔‘‘
(۳)    دائیں بائیں رخ پھیرنا:… یعنی حعیلین پر دائیں بائیں منہ کرنا بھی اذان میں سنت ہے جیسے کہ بخاری شریف میں ہے۔
عن ابی جحیفة انہ رای بلا لا یؤذن فجعلت اتتبع فاہٗ ھٰھُنَا وھٰھُنا بالاذان  (بخاری شریف ص۸۸ جلد۱)
’’حضرت ابی حجیفہ فرماتے ہیں کہ اس نے بلال کو اذان پڑھتے ہوئے دیکھا۔ چنانچہ میں بھی (ان کے منہ کے ساتھ) اِدھر اُدھر اذان میں منہ پھیرنے لگا۔‘‘
ہدایہ میں ہے۔
ویحوّل وجرلہٗ للصلٰوة والفلاح یمنة ویسرة لانہ خطاب للقوم فیواجھم  (ص۸۸ جلد۱)
’’یعنی مؤذن ’’حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح‘‘ کہتے وقت اپنا رخ دائیں بائیں پھیرے کیونکہ یہ قوم کو خطاب ہے۔ لہٰذا ان کی طرف بھی رخ کرنا چاہیے۔‘‘
اذان کے مستحبات:
علماء نے مؤذن کے لیے باوضو ہونا مستحب لکھا ہے۔ جیسے کہ ترمذی شریف میں ہے۔
قال ابو ہریرة رضی اللّٰہ عنہ۔ لا ینادی بالصلٰوة الا متوضأ (تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی ص۱۷۸ جلد۱)
’’کہ اذان صرف باوضوآدمی کو پڑھنی چاہیے۔ ‘‘
اسی طرح ایک روایت حضرت وائل سے اوپر گذر چکی ہے۔ نیز امام بخاری اور ابن ابی شیبہ نے حضرت عطاء سے نقل کیا ہے کہ وہ مؤذن کے لیے وضو مستحب قرار دیتے ہیں۔
ابو شیخ نے ابن عباس سے یہ روایت بھی نقل فرمائی ہے۔
فلا یؤذن احدکم الا وھو طاہر
بہر حال علماء کا اتفاق ہے کہ مؤذن کا باوضو ہونا مستحب ہے اور ایسے کئی اور بھی مستحبات ہیں جنہیں تفصیلاً بیان کرنا اس وقت مشکل ہے۔ مولانا عبد الحی صاحب حنفی نے عورت کی اذان کو غیر مسنون قرار دیتے ہوئے ہدایہ کے بین السطور میں لکھا ہے کہ
وھو کون المؤذن رجلا۔
’’یعنی مؤذن کا مرد ہونا مسنون ہے۔‘‘
بہرحال ان عبارتوں سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ شرعی اذان کے لیے ان امور مسنونہ کا ہونا ضروری ہے اور ہر وہ اذان جس میں یہ امور مسنونہ نہ ہوں وہ شرعی اور مسنون اذان نہیں ہو گی۔ نتیجہ اس طرح نکلے گا۔ ٹیپ کی اذان (صغریٰ) میں یہ امور نہیں ہیں اور جس اذان میں یہ امور نہ ہوں وہ شرعی (کبریٰ) نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا ٹیپ کی اذان شرعی نہیں ہو سکتی۔  وَلِلّٰہ الحمد
وَجہ ثانی:… ٹیپ ریکارڈ اذان کے ناجائز ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اذان اسلامی شعاروں میں سے ایک شعار ہے اور اس کا شعار ہونا اس حدیث سے بالکل نمایاں ہے۔
عن انس بن مالک قال کان  رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یُغِیْرُ اذا طلع الفجر۔کان یستمع الاٰذان فان سمع امسک والا اغار
(مسلم مع نووی ص۱۴۴ جلد۱)
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دشمن پر صبح کے وقت حملہ آور ہوا کرتے تھے (حملہ سے قبل) گوش بر اذان رہتے۔ اگر اذان سن پاتے تو حملہ آور نہ ہوتے ورنہ دشمن پر دھاوا بول دیتے۔‘‘
رسالہ شرح تراجم بخاری میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ
لعل الحکمة فی ذھاب الشیطن عند الاذان دون الصّلٰوة لانه شعار الاسلام یجھر فیہ بذکر اللّٰہ ویصیر بہ الدار دارلسلام ص۲۳
’’یعنی بخلاف نماز کے اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کی وہ یہ ہے کہ اذان اسلام کا شعار ہے کیونکہ اذان کی وجہ سے دارالحرب دارالسلام بن جاتا ہے۔‘‘
 اور یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعار میں تبدیلی کا حق کسی کو نہیں دیا بلکہ اس کا احترام و لحاظ رکھنا اور تعظیم و تکریم کرنا واجب اور ضروری ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ شروع سورۂ مائدہ میں فرماتے ہیں۔
﴿وَلَا یَحِلُوْا شَعَائِرِ اللّٰہِ الخ﴾
’’اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ شعاروں کی بے حرمتی نہ کرو۔‘‘
دوسری جگہ یوں ارشاد ہے۔
﴿وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوِی الْقُلُوْبِ﴾ (سورۂ حج رکوع۱۱)
’’جو شخص دین خداوندی کے ان (مذکورہ) یادگاروں کو پورا لحاظ و تعظیم کرے گا، تو یہ ان کا یہ لحاظ (خدا تعالیٰ سے ) دل کے ساتھ ڈرنے سے ہوتا ہے۔‘‘
اور اذان کی تعظیم و تکریم اس میں ہے کہ اس کو اسی ہیئت کذائی (جس کی تفصیل اوپر بیان ہو چکی ہے) کے ساتھ باقی رکھا جائے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سعادت مند میں اور زمانہ  مَشْھُوْدَ لَھَا بِالخَیْر میں پائی جاتی تھی۔
وجہ ثالث:… تیسری وجہ اس اذان کے ناجائز ہونے کی یہ ہے کہ اذان بذات خود ایک مستقل عبادت ہے دین اسلام کا خلاصہ اور مغز ہے۔کیونکہ اذان اسلام کے تمام بنیادی عقائد اور اساسی مضامین کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جیسے کہ چھ کلمات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، برتری اور توحید ایسے بنیادی عقائد کا بیان ہے۔ ساتویں آٹھویں کلمات میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ہے اور نانویں دسویں کلمات میں اسلامی زندگی اور عمل صالح پر زور دیا گیا ہے۔ گیارہویں بارہویں کلمے عقیدہ حیات بعد الممات یعنی دوبارہ جی اٹھنے پر مشتمل ہیں۔ اور باقی کلمات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و برتری اور توحید کا اعادہ ہے۔ جس میں لطیف نقطہ یہ ہے کہ مرد مسلمان کو ہر وقت توحید پر کاربند رہنا چاہیے۔ تاکہ خاتمہ بھی عقیدہ توحید پر ہو۔ بہر حال اذان بلاشبہ ایک اہم عبادت ہے اور عبادت کی قبولیت کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
(۱) اخلاص جسے  وَاعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَه الدِّیْنَ اور ایسی بیسیوں آیات میں بیان کیا گیا ہے اور یہ بات بھی ہے کہ اخلاص حیوان ناطق یعنی زندہ مسلم انسان کا وصف ہے نہ کہ ٹیپ ریکارڈ کا جو محض بے جان چیز ہے۔
(۲) اور اس عبادت پر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھاپ کندہ ہو ورنہ بصورت دیگر وہ عبادت اگرچہ بذات خود کتنی بھی اہم اور کیسی بھی جاذبیت کی حامل ہو بدعت ہو گی اور اس کا پرچار کرنے والا بدعتی ہو گا۔ ملاحظہ ہو۔
عَنْ عائشىة رضی اللّٰہ عنھا قالت قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ اَحْدَثَ فِی امرنَا ھٰذا مَا لَیس منہ فھو رَدٌّ  (متفق علیہ مشکٰوۃ ص۲۷ جلد۱)
’’جو شخص ہمارے اس دین میں (جو کامل اور مکمل) ایسی نئی پچ (بدعت) لگاتا ہے جو اس دین میں نہیں وہ پچ بلاشبہ مردود ہے۔‘‘
اور اس حدیث کی رو سے ٹیپ کی اذان بدعت قرارپائی ہے۔ اور  کل بدعۃ ضلالۃ وکُل ضلالۃ فی النّار کے تحت اس کو جائز کرنے والا قابل مواخذہ ہے۔
وجہ رابع:… اگر ٹیپ ریکارڈ کی اذان کو شرعی اذان تسلیم کر لیا جائے تو پھر وہ تمام ذخیرہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جس میں مؤذن کے فضائل و مناقب اور محامد و محاسن بیان ہوئے ہیں بوجہ مصداق نہ ہونے کے مہمل اور اکارت ہو جائے گا۔ لہٰذا اگر ٹیپ کی اذان کو شرعی اذان مان لیا جائے تو ان احادیث سحیحہ کا عمل انکار لازم آتا ہے اور انکار سنت باتفاق امت کفر بواح ہے۔  فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَارِ ۔
وجہ خامس:… پانچویں وجہ یہ ہے کہ ملحدین او رمعاندین اسلام صدیوں کے تلخ تجربات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسلامیان میں جب تک روحانیت موجود ہے وہ ہم سے کسی میدان میں مار نہیں کھا سکتے اور یہ حقیقت بھی ان ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مفکرین کے لیے اب راز نہیں رہی کہ جب تک بوریا نشین علمائے حق کا اسلامیان میں اثر و نفوذ باقی اور قائم ہے اس وقت تک اسلامی قدروں اور روحانی قدروں کو مضمحل اور کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ مسلم عوام کو علماء حق سے برگشتہ اور بے نیاز کرنے والی دلفریب اور گمراہ کن چالوں میں سے نہایت سادہ اور پرکشش یہ بھی ایک چال ہے جسے ٹیپ ریکارڈ کی ہوئی اذان کے ذریعے علمائے حق سے محراب و منبر چھیننے کے لیے اسلامی عبادت گاہوں میں بطور تجربہ لایا جا رہا ہے۔ تاکہ کامیابی کی صورت میں جمعہ، پنجگانہ، عیدین اور دوسری اسلامی تقریبوں میں اسلامی تبلیغ کے بہانوں سے علمائے حق کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے خطبوں کی جگہ پر چند خرید کردہ علمائے سوء کی پسند کردہ ٹیپ شدہ تقریروں سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے اور بتدریج اسلام پسند عوام کے رگ و پے سے اسلامی حمیت اور دینی غیرت کو چھانٹ چھانٹ کر نکال دیا جائے اور اس طرح مذہب کے بندھنوں کو ڈھیلا کر کے اپنے الحاد زدہ نظریات کو گمراہ کن افکار کو اور اپنی دوسری دسیسہ کاریوں کو عروج و دام بخشا جائے گا۔
﴿یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِوُاْ نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نَوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ﴾
لہٰذا ایسی اسلام دشمن اسکیموں کو کبھی اسلامی نہیں کہا جا سکتا۔ اور انہیں جائز قرار دینا اسلامی حصار کی نیو کو کھوکھلا کرنا ہے بلکہ یہ مدافعت فی الدین۔ استہزاء بالاسلام اور تجاوز من حدود اللہ ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا۔
﴿وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَه﴾
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان زیر نظر تصریحات کی روشنی میں ٹیپ ریکارڈ کی ہوئی اذان کو نمازوں کے اوقات پر استعمال کرنا قطعی ناجائز اور خلاف سنت ہے اور بدعت سیئہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کی شوکت و تمکنت کو نیچا دکھانے والی ایک بھونڈی چال ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ علمائے حق اور مفتیان دین حنیف سے پورے ادب و احترام کے ساتھ نہایت دلسوزی سے ہماری گذارش ہے کہ اب وہ اپنے گروہی اختلافات اور فروعی مشاجرات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے حقیقی دشمن اور اس کی ان باریک چالوں اور کارستانیوں کا نوٹس لیں جو اسلام کے نام سے اسلام ہی کے خلاف بروئے کار لائی جا رہی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے شب و روز پابہ رکاب رہیں۔
(الراقم میاں محمد عبید اللہ بن الشیخ محمد حسین تغمد ہما برحمۃ رب الثقلین۔ صدر مدرس چینیانوالی لاہور)
(اہل حدیث لاہور شمار نمبر ۱۸ جلد نمبر ۱)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 180۔184
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ