سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(448) اذان صبح صادق طلوع ہوتے ہی کہی جائے

  • 2733
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-13
  • مشاہدات : 828

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک فریق تو صبح کی اذان ہوتے ہی دو رکعت سنت ادا کرکے جماعت کرا دیتا ہے اور دوسرا گروہ تھوڑی دیر انتظار کر کے درمیانی وقت میں نماز پڑھتے ہیں۔ اس واسطے دریافت طلب بات یہ ہے کہ آیا کون سا فریق راستی پر ہے۔ اور آج کل اذان کتنے بجے کہی جاوے۔ اور انتظار کتنے عرصہ ہونا چاہیے کہ اتفاق رہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اذان صبح صادق طلوع ہوتے ہی کہی جاوے، پھر کچھ دیر انتظار کرنا چاہیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لیے اس قدر انتظار کرتے تھے، کہ سویا ہوا شخص نیند سے اٹھ کر وضو کر کے جماعت کے ساتھ شریک ہو سکے۔  (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول صفحہ ۳۳۵)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 174
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ