سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(445) مسجد کے مؤذن کے ہوتے ہوئے ایک شخص بلاناغہ اذان اور اقامت کہنا کیسا ہے؟

  • 2730
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-13
  • مشاہدات : 353

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص اپنے شوق سے مسجد میں اذان اور تکبیر کہتا ہے، اس مسجد میں امام و مؤذن دونوں موجود ہیں۔ لیکن وہ شخص اُن سے اجازت لے لیتا ہے اور مؤذن اس کو اجازت بھی دے دیتا ہے۔ اگر شخص مذکور اذان سے رہ جاتا ہے۔ تو اجازت لے کر تکبیر پڑھ لیتا ہے۔ لیکن مسجد کا متولی جو ہے وہ اس بات کو جبراً منع کرتا ہے ۔ کہ سوائے مؤذن کے نہ کوئی اذان کہے نہ تکبیر کہے ازروئے شر ع متولی ٹھیک کرتا ہے یا غلط؟

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص اپنے شوق سے مسجد میں اذان اور تکبیر کہتا ہے، اس مسجد میں امام و مؤذن دونوں موجود ہیں۔ لیکن وہ شخص اُن سے اجازت لے لیتا ہے اور مؤذن اس کو اجازت بھی دے دیتا ہے۔ اگر شخص مذکور اذان سے رہ جاتا ہے۔ تو اجازت لے کر تکبیر پڑھ لیتا ہے۔ لیکن مسجد کا متولی جو ہے وہ اس بات کو جبراً منع کرتا ہے ۔ کہ سوائے مؤذن کے نہ کوئی اذان کہے نہ تکبیر کہے ازروئے شر ع متولی ٹھیک کرتا ہے یا غلط؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

متولی مسجد کا منتظم ہے۔ اس کا حکم ماننا چاہیے۔ ہاں اگر مؤذن اول کی اجازت کے ساتھ مؤذن ثانی کے اذان دینے میں کوئی نقصان یا بد انتظامی پیدا نہ ہو تو متولی کو بھی سختی نہیں کرنی چاہیے آواز کا کمزور یا کریہہ ہونا بھی ایک باعث ہے۔ کہ ثانی کو روکا جائے۔ لحدیث (اندایٰ صوتاً)(فتاویٰ ثنائیہ جلد اول صفحہ ۲۷۹)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 173
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ