سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(407) کیا کتے کا جھوٹا پاک ہے؟

  • 2692
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-09
  • مشاہدات : 1682

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بھگیاڑی میں سخت شور مچ رہا ہے کہ وہابی لوگ کتے کا جوٹھا پاک جانتے ہیں کیونکہ ایک مولوی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ کتّے کا جوٹھا پانی بالکل پاک ہے اگرچہ برتن میں ہو اس پر سخت تنازعہ ہو رہا ہے بلکہ کسی وقت لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے اس کی بابت بہت کوشش سے جواب لکھیں، آپ کو ہر دو فریقین نے حاکم تسلیم کر لیا ہے۔

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بھگیاڑی میں سخت شور مچ رہا ہے کہ وہابی لوگ کتے کا جوٹھا پاک جانتے ہیں کیونکہ ایک مولوی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ کتّے کا جوٹھا پانی بالکل پاک ہے اگرچہ برتن میں ہو اس پر سخت تنازعہ ہو رہا ہے بلکہ کسی وقت لڑائی تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے اس کی بابت بہت کوشش سے جواب لکھیں، آپ کو ہر دو فریقین نے حاکم تسلیم کر لیا ہے۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عن أبی ھریرة رضی اللہ تعالیٰ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم طھور اناًء أحدکم إذا ولغ فیه الکلب ان یغسله سبع مرات او لھن بالتراب اخرجہ مسلم وفی لفظ لہ فلیرقہ(الحدیث) بلوغ المرام ص۷
’’ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کتا برتن میں لگے تو اس کی پاکی یہ ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے پہلی بار مٹی سے اس کو مسلم نے روایت کیا۔ اور مسلم کی ایک روایت ہے کہ برتن میں جو کچھ ہے گرا دیں۔‘‘
 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کا جوٹھا ناپاک ہے کیوں کہ جب برتن ناپاک ہو گیا جس کے پاک کرنے کا طریق آپ نے یہ بتایا کہ سات مرتبہ دھویا جائے تو جو کچھ برتن میں ہے وہ بطریق اولیٰ ناپاک ہو گیا۔ اور اسی لیے اس کے گرانے کا حکم دیا اور اس سے معلوم ہوا کہ کتے کا گوشت بھی نجس ہے کیوں کہ جوٹھا لعاب کی وجہ سے نجس ہے اور لعاب گوشت سے نکلتا ہے تو وہ بھی نجس ہوا۔
اگر مولوی صاحب نے پاک ہونے کا فتویٰ دیا ہے تو اس کو اس حدیث کا علم نہیں ہو گا، ورنہ اہل حدیث کا یہ مذہب کیسے ہو سکتا ہے اہل حدیث کا مذہب تو قرآن سنت ہے نہ کسی کی رائے۔
بہت لوگ خاص کر بریلوی پارٹی اہل حدیث پر اس قسم کی تہمتیں لگا کر بدنام کرنا چاہتی ہے جس کی تھوڑی سی تفصیل پرچہ تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۳ نمبر ۹ میں ہو چکی ہے۔ (عبد اللہ امر تسری مقیم روڑ ضلع انبالہ ۲۳ ذی الحجہ ۱۳۵۲ھ تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۳ نمبر ۱۵)
(الجواب صحیح : الراقم علی محمد سعیدی جامع سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 21
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ