سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سورۃ الفاتحہ کے بغیر رکعت مکمل نہیں ہوتی

  • 269
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-06
  • مشاہدات : 82

سوال

سوال :    بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ سورہ الفاتحہ کی فرض نماز کے دوران قرات نہ ہو سکے اور امام صاحب رکوع میں چلیں جائیں یا پھر امام کو رکوع کی حالت میں مقتدی پائے تو کیا اسے وہ رکعت دوبارہ لٹانی ہو گی ؟جب امام صاحب آواز بلند ق

جواب: مدرک رکوع کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں؟ اس بارے اہل الحدیث علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ بن بازرحمہ اللہ اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
1۔ مقتدی نے امام کو رکوع کی حالت میں پا لیا تو اس کی یہ رکعت پوری ہو جائے گی، بھلے ہی وہ امام کے رکوع سے اٹھنے سے پہلے ’’سبحان ربی العظیم‘‘ نہ کہہ سکے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث عام ہے:
’’ جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی۔‘‘(صحیح مسلم)
اور یہ معلوم ہے کہ رکوع پا لینے سے رکعت پوری ہو جاتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ایک دن ابوبکرہ ثقفی رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، چناچہ صف میں پہنچنے سے پہلے انہوں نے رکوع کر لیا، پھر صف میں شامل ہوئے۔ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ تمہارے شوق کو زیادہ کرے ، مگر آئندہ ایسا نہیں کرنا‘‘
آپ نے انہیں صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع میں جانے سے منع فرمایا، مگر رکعت کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ پس جو شخص امام کو رکوع کی حالت میں پائے وہ جب تک صف میں نہ پہنچ جائے رکوع نہ کرے، واللہ ولی التوفیق۔(ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوی ، شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ، ص 125)
بعض اہل علم کی رائے ہے کہ مدرک رکوع کی رکعت نہیں ہوتی ہے۔ شیخ الحدیث عبد المنان نور پوری صاحب فرماتے ہیں:
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی ’’لاتعد‘‘ والی حدیث سے مدرک رکوع کی رکعت کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ہی ثابت نہیں ہوتے۔ روایۃ اس حڈیث میں جو لفظ ثابت ہیں، وہ ’’لا تعُد‘ ہی ہیں جن کا معنی ہے’’ نہ لوٹ دوبارہ ایسا نہ کرنا‘‘ اور لفظ ’’لاتُعد‘‘ اعادہ نہ کر نماز نہ لوٹا، اس حدیث میں روایۃ ثابت ہی نہیں لہذا حدیث ’’لا صلوۃ لمن لم یقرابفاتحۃ الکتاب‘‘نہیں کوئی نماز اس کی جس نے نہ پڑھی سورۃ فاتحہ، محکم ہے۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متعارض نہیں تو رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت نہیں ہوتی، وہ رکعت اٹھ کر پڑھے۔(احکام ومسائل؛ جلد 1، ص 162)
واللہ اعلم بالصواب
نوٹ:براہ مہربانی ایک پوسٹ میں ایک ہی سوال کیا جائے۔ دوسرے سوال کے لیے دوسری پوسٹ شروع کی جائے۔

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ