سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(385) اہل حدیث مسجد میں جماعت اسلامی ذہن کے بندے کا امام ہونا

  • 2670
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 626

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم مولانا ہمارے ہاں عرصہ سے انجمن اہل حدیث قائم ہے اس کی زیر نگرانی مسجد اہل حدیث میں امامت خطابت اور درس قرآن و حدیث ہوتا ہے اور کسی نہ کسی اہل حدیث کا تقرر انجمن اہل حدیث کی طرف سے عمل میں لایا جاتا ہے موجودہ عالم جن کے تقرر کو دو سال کا عرصہ گذر چکا ہے جماعت اسلامی کے رکن ہیں اور اس اثناء میں وہ جماعت اسلامی کی ترقی اور اس کے لٹریچر کی اشاعت میں سرگرمی میں حصہ لیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے جماعت اہل حدیث میں دو فریق ہو گئے ایک فریق ان کا حامی ہے۔ اور دوسرا کہتا ہے انہیں الگ کر کے کسی ایسے اہل حدیث عالم کا تقرر عمل میں لانا چاہیے جو جماعتی خدمات سر انجام دے۔ مولانا تنخواہ تو ہم سے لیتے ہیں مگر کام جماعت اسلامی کا کرتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے اپنے امیر جماعت ہند مولانا ابو الیث کیا بیان موجود ہے جس پر عمل لازم ہے۔ ہمارے بہت سے رفقاء ایسے ہیں جن کا تعلق جماعت میں داخل ہونے سے پہلے مسلمانوں کے مختلف قسم کے مذہبی یا سیاسی اداروں سے رہا ہے اور وہ ان میں ہی سے کٹ کر جماعت میں آئے ہیں مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ جماعت میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے جماعتی مزاج سے اپنے کو ہم آہنگ بنانے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ لیکن ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن میں ابھی غیر شعوری طور پر ان جماعتوں سے تعلق کچھ نہ کچھ اثرات موجود  ہیں۔ یہ چیز غلط بھی ہے تحریک کے لیے مضر بھی اس لیے اسی طرح کے رفقاء کو پورا اہتمام کام میں لا کر اپنے کو ان اثرات سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جب آپ جماعت اسلامی میں داخل ہو چکے ہیں تو آپ کی تمام دلچسپیوں کا محور صرف جماعت کے مقاصد ہونے چاہئیں اس لیے اپنی عصبیت خاص کیجیے اس کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں اور جن کے لیے آپ جدو جہد کرتے رہے ہیں یک لخت چھوڑ دیجیے (رسالہ زندگی رام پور مطبوعہ ۱۹۵۱ء) پس ان حالات میں اب آپ فرمائیں ہمیں کیا کرنا چاہیے امام صاحب کو الگ کر دینا چاہیے یا نہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 جماعت اسلامی سے کدو مخالفت نہیں ہے جس حد تک وہ صحیح چلتے ہیں ہم ان کے ہمنوا ہیں اور جہاں وہ بدک جاتے ہیں یا صراط مستقیم خسک جاتے ہیں ہم انہیں وہیں ٹوکتے اور روکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں مگر موجودہ صورت میں جبکہ سوال میں ان کی عصبیت نمایاں ہو رہی ہے اگر امام صاحب جماعت اہل حدیث سے جماعت اسلامی کی جماعت کو مقدم رکھتے ہوں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خود ہی الگ ہو جائیں ورنہ اہل حدیث کو اتنا بے حس نہیں ہونا چاہیے تنخواہ تو وہ دیں اور کام دوسروں کا ہو اہل حدیث میں کچھ نہ کچھ عصبیت ہونی چاہیے۔ دینی خدمات اور کام کے لحاظ سے اہل حدیث کسی سے کم نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو دوسروں میں مدغم کریں جو اہل حدیث رہ کر جماعت اسلامی کی رکنیت وہ بے پیندے کے بندہنے ہیں اور اس بھٹکتے ہوئے راہی کی مثل ہیں جو کہتا ہے «

 چلتا ہوں تھوڑی دور ہر ایک راہرو کے ساتھ       پہچانتا نہیں ہوں بھی رہبر کو میں

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 223۔224
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ