سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(384) اذان اور خطبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا حکم

  • 2669
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 2198

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ اذان میں جب اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ کہا جاتا ہے، یا جمعہ کے خطبہ میں جب ( ایسا کرنا منع ہے اور بدعت، اور وہ جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا جاتا ہے وہ حدیث موضوع ہے، اور فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا) اللھم  انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیه وسلم واخذل من خذل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم (اے اللہ اس کی مدد کر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یدن کی مدد کرے، اور اس کو ذلیل کر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو ذلیل کرے) آتا ہے، تو انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا لیتے ہیں یہ فعل کیسا ہے ، کتب احادیث و فقہ یا قول ائمہ سے پیاا جاتا ہے یا نہیں، اور اگر کہیں سے اس جواز ثابت نہیں، تو اس کے کرنے والے کیسے ہیں، اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اس فعل سے آنکھ کی روشنی تیز ہوتی ہے، اور اس کو فرمودہ رسول بتاتے ہیں اس کا پتہ بھی کچھ حدیث و فقہ میں کہیں لگتا ہے یا نہیں۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مرقومہ میں معلوم کرنا چاہیے کہ دنیا فانی ہے چند روز کی زندگانی ہے، مرنا برحق ہے جہاں تک ہو سکے اتباع جمیع امور میں سنت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ہونا چاہیے، کیونکہ فلاح دارین اسی میں ہے اور اپنی طرف سے ایجاد ہرگز نہ کرنا چاہیے اگرچہ وہ عند الطبع مرغوب و مستحسن ہو جیسے کہ یہی امر یعنی تقبیل ابہام وغیرہ جہاں عوام کالانعام بلکہ بعض بعض خواص کے نزدیک بھی بہتر و احسن معدود شمار کیا جاتا ہے حالانکہ یہ امر یعنی چومنا انگوٹھوں وغیرہ کا عند التاذین یا عند قول الخطیب  اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم الخ
صحابہ کرام نے ( حالانکہ کوئی شخص بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا نہیں ہے۔)  مع انہ لم یکن شخص احب الیھم منہ صلی اللہ علیہ وسلم کماء جا فی الحدیث  اور نہ کسی امام نے ائمہ اربعہ میں سے کیا،اور جو فعل نہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوا، اور نہ صحابہ کرام سے اور نہ ائمہ اربعہ سے، تو وہ کام بدعت اور مردود ہوتا ہے۔
قال الامام الجلیل السیوطی الاحادیث التی رویت فی تقبیل الانامل و جعلھا علی العینین عند سماع اسمہ صلی اللہ علیہ وسلم عن المؤذن فی کلمة الشہادة کلہا موضوعات انتہیٰ ما فی الرسالة المسماة بتیسیر المقال للامام الکبیر الشیخ جلال الدین السیوطی
’’یعنی جس قدر حدیثیں دوبارہ چومنے انگوٹھوں وغیرہ کے لوگ نقل کرتے ہیں، سب کی سب موضوع او ربناوٹی جھوٹی ہیں، اور ماہر فن لکھتے چلے آتے ہیں، کہ یہ حدیثیں بے اصل ہیں، اور پایہ صحت کو نہیں پہنچیں۔‘‘
کذا قال الشیخ محمد طاہر الحنفی والملا علی القاری الحنفی والشیخ الشوکانی المحدث وغیرھم فی کتبھم المشہورة المنسوبة الیھم
اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی اپنے فتوے تقبیل العینین میں فرماتے ہیں، کہ جو شخص اس فعل کو سنت جا کر کرے، وہ متبدع اور کرنا اس کا بدعت ہے اور بہت علمائے ماہرین اس کو بدعت کہتے ہیں، بخوف طول ترک کیا، اور مولانا الشیخ یعقوب چرخی نے خیر الجاری شرح صحیح البخاری میں صاف صاف اس فعل کو بدعت لکھا ہے الغرض یہ فعل ہر گز درست نہیں، بلکہ بدعت ہے۔
اقول:… افسوس صد افسوس مسلمان دینداروں پر کہ جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تعلیم فرمایا، کہ یہ اذان کے وقت یا اس کے بعد کہا کرو، اس کو ترک کیا اور اپنی طرف سے بہت سی باتیں ایجاد کر لیں، حضرت نے فرمایا ہے، کہ جیسے مؤذن کہتا ہے، ویسے ہی کہو، تمام گناہ صغائر معاف ہو جائیں گے، بعد ختم اذان کے دروز شریف پڑھے، اور یہ دعا:
اللھم رب ھذاہ الدعوة التامة والصلٰوة القائمة آت محمد ن الوسیلة والفضیلة وابعثہ مقام محمود ن الذی وعدتہ
’’اے اللہ اس پوری دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومقام وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور آپ کو مقام محمود پر پہنچا، جس کا آپ سے تو نے وعدہ کیا ہے۔‘‘
بس یہاں تک پڑھے، حضرت کی شفاعت اس کے لیے واجب ہو جائے گی، اور بعض لوگ  وعدتہ کے پیچھے اور چند کلمات پڑھتے ہیں وہ درست و ثابت نہیں ہیں، کیونکہ حدیث شریف میں نہیں آئے، اور جو بعض لوگ اذان کے بعد یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کے بعد محمد رسول اللہ زیادہ کر کے پڑھتے ہیں، یہ بھی نادرست ہے، یعنی محمد رسول اللہ قرآن شریف وغیرہ میں آیا ہے و لیکن خاص اس محل میں شارع سے ثابت نہیں ہوا جو امر شارع سے ثابت ہو وہی کرنا چاہیے، نہ یہ کہ اپنی طرف سے ایجاد کر لینا یہ بہت مذموم ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے، کہ جب عطاس یعنی چھینک کوئی لیوے، تو کہے الحمد للہ اور سننے والا یرحمک اللہ کہے، یہ شارع کا حکم تھا، تو صحابہ کرام کے وقت ایک شخص نے عطاس لے کر الحمد للہ السلام علیکم کہا، تب سالم صحابی نے کہا وعلیک وعلی امک یعنی تیری ماں پر اور تجھ پر سلام ہو، پس وہ شخص کچھ خفا سا ہوا، تب سالم نے فرمایا، کہ بھائی خفا کیوں ہوتے ہو میں نے کچھ بے جا کلمہ نہیں کہا، اسی طرح حضرت کے پاس ایک شخص نے کہا تھا، جیسا کہ تم نے چھینک کے بعد کہا، تو حضرت نے بھی ایسا ہی کہا، جیسا کہ میں نے کہا، تب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،یہ کہ محل سلام کہنے کا نہں ہے، ھکذا فی الترمذی وابی داؤد والمشکوٰۃ وغیرھما من کتب الحدیث۔
اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص نے چھینک لی بعدہ اس نے کہا  الحمد للّٰہ والسلام علی رسول اللّٰہ (سب تعریف اللہ کے لیے، اور رسول اللہ پر سلام ہو)تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ سب تعریف اللہ پاک کو ہے اور درود رسول پر ہے ولیکن یہ محل درود وغیرہ کا نہیں ہے جس طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی ہے یعنی الحمد للہ کہنا چاہیے، ویسا ہی کرو اور یہ اس محل پر ہم کو حضرت نے تعلیم نے کیا، کذا فی المشکوٰۃ
اب ارباب فطانت پر مخفی نہ رہے، کہ معاذ اللہ کچھ محمد رسول اللہ کا انکا رنہیں ہے ولیکن عرض یہ ہے ، کہ اس کا یہ محل نہیں ہے، اس محل میں ادعیہ و اذکار جو وارد ہیں، ان کا کہنا چاہیے اور شیخ عبد الحق حنفی دہلوی نے بھی لکھا ہے، کہ محمد رسول اللہ کا یہ محل و موقعہ نہیں ہے کہنا نا درست ہے، کذا فی اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ للشیخ عبد الحق دہلوی، انتہیٰ
اب معلوم کرنا چاہیے، کہ مسنون طریقہ بعد اذان کے یہ ہے، اول تو جس طرح مؤذن کہے  اللّٰہ اکبر تو سننے والا بھی اسی طرح کہے، جب مؤذن  اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ کہے تو وہ بھی یوں ہی کہے، جب مؤذن  اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ کہے، تو سننے والا بھی  اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ کہے اور انگوٹھے وغیرہ نہ چومے، کیونکہ یہ بدعت ہے کام مر، اور جب مؤذن  حی الصلوٰة کہے، تو سننے والا  لا حول ولا قوة الا باللّٰہ کہے اور جب مؤذن  حی علی الفلاح کہے، تو سننے والا کے  لا حول ولا قوة الا باللّٰہ العلی العظیم  اور بعض بوقت سننے ان ہر دو کلمہ کے یعنی  حی علی الصلوٰة وحی علی الفلاح کہتے ہیں  ماشاء اللّٰہ کان وما لم یشاء یکن یہ نادرست ہے اور بے اصل بات ہے ہکذ فی شرح الشیخ عبد الحق حنفی الدہلوی اور جب مؤذن  اللّٰہ اکبر کہے، تو سننے والا بھی  اللّٰہ اکبر کہے، اور جب مؤذن کہے  لا الہ الا اللّٰہ تو سننے والا بھی  لا الہ الا اللّٰہ کہے، بس اور محمد رسول اللّٰہ نہ ملا دے، کیونکہ یہ محل نہیں ہے بلکہ بدعت ہے، افسوس جہالت نے ایسا زور پکڑا ہے کہ جو حق بات ہے، وہ ناحق اور باطل معدود کی جاتی ہے، اور جو بات باطل اور بے اصل ہے، وہ مروج اور دائرہ حق میں شمار کی جاتی ہے، سچ فرمایا ہے، رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے، کہ جب سنت کی جگہ بدعت اور بے اصل بات قائم کی جائے، تو سنت تو نیست و نابود ہو جاتی ہے، اور بے اصل بات گڑ اور جم جاتی ہے کذا فی المشکوٰۃ حقیقت میں یہی حال ہے، کہ سنت متروک اور بدعت مروج ہو رہی ہے اور جب تکبیر میں  قد قامت الصلوٰۃ (نماز کھڑی ہو گئی) کہے تو سننے والا  اقامھا اللّٰہ وادامھا ( اے اللہ اسے کھڑا رکھے اور ہمیشہ سلامت رکھے) کہے اور کچھ نہ کہے، اور باقی کلمات کا جواب جیسا اوپر مذکور ہوا ویسا ہی کہاے، اور جب مؤذن  الصلوٰة خیر من النوم (نماز سونے سے بہتر ہے) کہے، تو سننے والا بھی  الصلوٰة خیر من النوم کہے، اور کچھ نہ کہے یعنی  صدقت وبررت وغیرہ نہ کہے، کیونکہ اس کا ثبوت، حدیث میں نہیں ہے۔ پس بعد فراغت جواب مؤذن درود شریف اور مذکورہ بالا دعا پڑھے، اور اپنے یا غیر کے لیے جو دعا مانگے قبول ہو گی یہ مسنون طریقہ ہے، باقی بدعت ہے۔
فقط واللّٰہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب حررہ العاجز ابو محمد عبد الوھاب الفنجابی الجھنگوی ثم الملتانی نزیل الدھلی تجاوز اللّٰہ عن ذنبہ الخفی والجلی فی اواخر شہر الحرام ۱۳۰۶ھ
(سید محمد نذیر حسین، سید محمد عبد السلام غفرلہ ۱۲۹۹، ابو محمد عبد الحق لودیانوی ۱۳۰۵)
(خادم شریعت رسول الاداب ابو محمد عبد الوہاب ۱۳۰۰، عبد الجبار بن عبد العلی، عبد الجبار حیدر آبادی، عبد الرؤف)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 260۔263
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ