سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(381) زمانہ رسالت میں مختلف ملکوں کی طرف جانے والی امیر کی تنخواہ کیا طریقہ تھا؟

  • 2666
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 351

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زمانہ رسالت میں اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم غیر ملکوں میں امیر بنا کر بھیجے جاتے تھے کیا وہ ملکی و مذہبی (جس میں امامت کا کام سپرد بھی تھا) دونوں خدمت کے لیے بیت المال سے تنخواہ لیا کرتے تھے؟

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زمانہ رسالت میں اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم غیر ملکوں میں امیر بنا کر بھیجے جاتے تھے کیا وہ ملکی و مذہبی (جس میں امامت کا کام سپرد بھی تھا) دونوں خدمت کے لیے بیت المال سے تنخواہ لیا کرتے تھے؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 زمانہ رسالت میں جن صحابہ کو کسی مقام میں عامل بنا کر بھیجا جاتا تھا ان کو بیت المال سے بغیر شرط و تعین کے ان کی ضرورت کے مطابق اس قدر ملتا تھا جس سے ان کا کام چل جاتا اور وہ بھی خاص اباحت کے مقابلہ میں نہیں، جیسا کہ سائل خیال کر رہا ہے۔  (مولانا) عبید اللہ رحمانی، محدث دہلی نمبر ۱ ش نمبر ۳)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 171
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC