سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(374) رمضان المبارک میں سحری کی اذان کا ثبوت

  • 2659
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 955

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رمضان المبارک میں جو سحری کی اذان کہی جاتی ہے اس کا ثبوت کیا ہے؟ اگر اذان کی بجائے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر کے لوگوں کو بیدار کیا جائے تو کیا یہ جائز ہو گا؟ قرآن و سنت کی روشنی میں تحریر فرما دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، حضرت بلال اور حضرت ام مکتوم رضی اللہ عنہما، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا وہ سحری کے لیے یا فجر کے لیے؟ صحیح بات یہی ہے کہ وہ فجر کے لیے تھی، کیوں کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اذان سال بھر چلتی تھی، لہٰذا سحری خاص کے نام پر اذان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لوگوں کو سپیکر کے ذریعہ بیدار کرنے میں کوئی حرج نہیں یہ امر بالمعروف کے ضمن میں آتا ہے۔  (اہل حدیث لاہور جلد نمبر ۱ شمارہ ۴۷)
تشریح:… سائل کا سوال تھا کہ سحری کی اذان کا ثبوت ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرما دیں سائل کو دلائل سے مطمئن کرنے کی بجائے مفتی صاحب نے خود خلل میں ڈال دیا۔
سائل سے مودبانہ گذارش ہے کہ اگر آپ بادلائل اس مسئلہ کو دیکھنا چاہیں تو حضرت العلام حضرت مولانا حافظ عبد اللہ صاحب محدث روپڑی کا فتویٰ جو پہلے گذر چکا ہے۔ مطالعہ فرمائیں۔ (فقط علی محمد سعیدی ، مہتمم جامعہ سعیدیہ۔ سعیدیہ کالونی خانیوال)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 167
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ