سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(373) فجر سے پہلے اذان درست یا نہیں

  • 2658
  • تاریخ اشاعت : 2013-03-08
  • مشاہدات : 913

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 فجر سے پہلے اذان درست ہے یا نہیں۔ کیا غیر رمضان میں بھی سحری کے وقت اذان ہو سکتی ہے؟ اگر غیر رمضان میں سحری کے وقت اذان ناجائز ہے۔ تو اس حدیث کا مطلب کیا ہو گا؟
عن ابن مسعود ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یمنعن احدکم اذان بلال من سحرہ فانہ یوذن او قال ینادی بلیل لیرجع قائمکم ویوقظ سائمکم راوہ الجماعة الا الترمذی
’’عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تم سے کسی کو سحری کھانے سے نہ روکے، کیوں کہ وہ رات میں اذان دیتا رہتا ہے، تاکہ تمہارے قیام کرنے والے کو لوٹائے اور سونے والے کو جگائے ، اور امام ترمذی نے جو باب باندھا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
 باب ما جاء فی الاذان باللیل، بینوا بالدلیل توجروا عند اللہ۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عن ابن عمر و عائشة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بلالا رضی اللہ عنہ یؤذن بلیل فکلوا واشربوا حتی ینادی ابن ام مکتوم وکان رجلا اعمٰی لا ینادی حتی یقال لہٗ اصبحت اصبحت متفق علیہ و فی اٰخرہ ادراج
’’ابن عمر رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! بلال رات کو اذان دیتا ہے، پس سحری کھائو پیو! یہاں تک کہ عبد اللہ بن مکتوم اذان دے، اور ابن ام مکتوم نابینا آدمی تھا۔ اذان نہیں دیتا تھا۔ یہاں تک کہ کہا جاتا، صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ اور اخیر کا کلام (وکان رجلا اعمٰی) اخیر تک راوی کا قول ہے۔‘‘
اس حدیث پر سبل السلام نے لکھا ہے۔
وفی شرعیة الاذان قبل الفجر لا لما شرع الاذان فان الاذان کما سلف للاعلام بدخول الوقت ولدعاء السامعین لحضور الصلٰوة وھذہ ا الاذان الذی قبل الفجر قد اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرحیة بقوله لیوقظ فائمکم ویرجع قائمکم رواہ الجماعة الا الترمذی والقائم ھو الذی بصلی صلوٰة اللیل ورجوعہ عودہ الی نومہ او قعودہ عن صلوٰة اذا سمع الاذان فلیس للاھلام بدخول وقت لا لحضور الصلٰوة……… فذکر الاختلاف فی المسئلة والاسدلال للمانع وللمجیز لا یلتفت الیه من ھمه العمل بما ثبت (سبل السلام ص۷۷ ج۱)
اس میں فجر سے پہلے اذان دینے کا ثبوت ہے۔ مگر یہ اذان اس خاطر نہیں، جو اذان کی اصل غرض ہے۔ کیوں کہ اصل غرض اذان کے وقت نماز کا اعلان اور سامعین کو حضور نماز کی دعوت ہے، اور ایک اذان کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سوئے ہوئے کی جگانے کی خاطر اور قائم کو لوٹانے کی خاطر ہے۔ اس کو ترمذی کے سوا باقی جماعت نے روایت کیا ہے اور قائم سے مراد جو رات کو نماز پڑھتا ہے اور اس کے لوٹانے سے مراد یہ ہے کہ وہ سو جانے یا نماز سے فارغ ہوکر بیٹھ جائے جب کہ اذان سنے۔ پس یہ اذان نہ وقت نماز کیا اطلاع کے لیے ہے نہ حضور نماز کی خاطر ہے۔ پس اس مسئلہ میں جواز عدم جواز کے جھگڑے میں اور مانع اور مجوز کے استدلال کی بحث میں وہ شخص نہیں پڑ سکتا، جس کا مقصد ثابت شدہ شے پر عمل ہے۔
اس بیان سے ایک تو سحری کی اذان ثابت ہوئی۔ دوم یہ معلوم ہوا کہ اذان کی غرض وہ نہیں جو عام اذان کی ہے، بلکہ جیسا حدیث کے الفاظ سے واضح ہے۔ یہ اذان اس خاطر ہے کہ رات کو نماز پڑھنے والا ذرا آرام لے کر نماز فجر کے لیے تیار ہو جائے۔ اور سویا ہوا اٹھ کر نماز کی تیاری کر سکے، کیوں کہ اکثر انسان رات کی نیند سے بیدار ہوتا ہے تو پہلے نیند کی سستی میں اٹھتے اٹھتے کچھ وقت صرف ہوتا ہے، پھر اس کی کئی طرح کی حاجتیں ہوتی ہیں، مثلاً پائخانہ، پیشا ب یا غسل وغیرہ اور صبح کے وضو کے لیے بھی کچھ وقت زیادہ چاہیے، بوجہ لمبی نیند، منہ، ناک وغیرہ میں جو فضلات جمع ہو جاتے ہیں، مسواک وغیرہ سے ان کی صفائی، ان کاموں کے لیے کافی وقت چاہیے، اس کا اندازہ تقریباً ایک گھنٹہ ہو سکتا ہے، سحری کے وقت کی اذان اسی غرض کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ صرف رمضان کے لیے مخصوص نہیں بلکہ بارہ ماہ کے لیے ہے۔ اور رمضان کی بجائے دوسرے مہینوں میں زیادہ مناسبت رکھتی ہے، کیوں کہ رمضان میں لوگ کھانے پکا نے کے لیے پہلے ہی بیدار ہوتے ہیں، بخلاف غیر رمضان کے، ہاں رمضان شریف میں اس کی اہمیت اس لحاظ سے بڑھ جاتی ہے، کہ اس کے ذریعے لوگوں کو سحری کے وقت اطلاع ہو، اور معلوم ہو جائے کہ صبح قریب ہے، کھانے پینے سے جلدی فارغ ہو جائیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تمہیں بلال کی اذان کھانے پینے سے نہ روکے، اس سے یہ مقصد نہیں کہ ، یہ اذان رمضان ہی کے لیے مخصوص ہے۔ بلکہ اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ رمضان شریف میں اشتباہ کا خطرہ تھا کہ لوگ پہلی اذان سن کر کھانے پینے سے رک نہ جائیں۔ اس لیے آپ نے اس اشتباہ کو دور فرمایا۔ اسی بنا پر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں فرماتے ہیں۔
وادعی ابن القطان ان ذالك کان فی رمضان خاصو وفیہ نظر  (فتح الباری جز ۳ ص ۳۴۶)
’’ابن قطان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اذان رمضان شریف سے مخصوص ہے۔ لیکن ان کے پاس دعویٰ میں کلام ہے۔‘‘
نیل الاوطار میں ہے۔
وقد اختلف فی اذان بلال بلیل ھل کان فی رمضان فقط ام فی جمیع الاوقات فالدعیٰ ابن القطان الاوّل۔ قال الحافظ فیہ نظر  (نیل الاوطار جلد نمبر ۱)
’’بلال کی اذان جو رات کو ہوتی تھی اس میں اختلاف ہے۔ کہ رمضان شریف کے لیے خاص تھی یا تمام اوقات میں ہو سکتی ہے؟ ابن قطان رحمۃ اللہ علیہ نے اول کا دعویٰ کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ابن قطان کے اس دعویٰ میں کلام ہے۔‘‘
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں اذانوں میں بہت زیادہ فاصلہ نہ ہوتا تھا۔ اگر پہلی اذان بہت پہلے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر اشتباہ کا خطرہ نہ ہوتا کہ یہ فجر کی اذان ہے اور نہ آپ کو اس اعلان کی ضرورت پیش آتی، کہ بلال کی اذان تمہیں کھانے پینے سے نہ روکے، کیوں کہ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ خود ہی سمجھ جاتے کہ ابھی کافی رات باقی ہے۔
اس کے علاوہ بعض روایات میں تصریح آ گئی ہے کہ سحری اور نماز فجر کی اذان میں فاصلہ تھوڑا ہوتا تھا۔ فتح الباری میں بحوالہ نسائی اور طحاوی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
(ولم یکن بینھما الا ان ینزل ھذا ویصعد ھذا  (فتح الباری جزئ۳ ص۳۴۷)
’’یعنی دونوں اذانوں کے درمیان صرف اتنا فاصلہ تھا کہ ایک اترتا اور دوسرا چڑھاتا تھا۔‘‘
یہ روایت بخاری شریف کتاب الصیام میں بھی ہے، مگر وہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد قاسم کی طرف اس کی نسبت کی ہے، لیکن نسائی او رطحاوی کی روایت سے معلوم ہو گیا، کہ قاسم نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے سن کر کہا ہے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔
فمعنی قوله فی رویة البخاری قال القاسم ای فی روایتہ عن عائشة  (فتح الباری جز ثالث ص۳۴۷)
’’قال القاسم کا معنی بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا نہ کہ اپنی طرف سے۔‘‘
یاد رہے کہ حدیث کے الفاظ کہ ایک اترتا اور دوسرا چڑھتا، یہ ظاہر پر محمول نہیں، بلکہ یہ مبالغۃً ہے۔ کیوں کہ اگر الفاظ کا ظاہری معنی مراد ہو، تو پھر پہلی اذان کا فائدہ ہی کوئی نہیں، حالانکہ پہلے بحوالہ حدیث بیان ہو چکا ہے، کہ اس اذان کی غرض تہجد پڑھنے والے کو لوٹانا اور سوئے ہوئے کو جگانا ہے تاکہ وہ نماز فجر کے لیے پوری تیاری کرے۔
اور رمضان شیرف میں اس کی غرض یہ بھی ہے کہ کھانے پینے سے جلدی فارغ ہو جائیں۔ لہٰذا ہر دو اذانوں میں اتنا فاصلہ ہونا چاہیے کہ جس میں ان ضروریات سے فارغ ہو سکے، اس کا اندازہ جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے۔ تقریباً ایک گھنٹہ ہو سکتا ہے۔
جب یہ ثابت ہو گیا کہ فاصلہ تھوڑا تھا۔ تو جو لوگ اس کو تہجد کی اذان سمجھتے اور تہائی رات باقی رہنے کے وقت یا اس سے بھی پہلے دیتے ہیں، وہ غلطی کرتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ تہجد پڑھنے والے کو فارغ کرنے کے لیے ہے۔ تاکہ وہ کچھ آرام لے کر نماز فجر کے لیے تیار ہو جائے۔ چنانچہ حدیث کا لفظ  لیرجع قائمکم اسی طرف اشارہ ہے۔
فاصلہ تھوڑا ہونے کی وجہ سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز کے لیے الگ اذان نہ دی جائے،اسی پر اکتفا کیا جائے تو درست ہے اور اس کے متعلق ایک حدیث بھی آئی ہے۔
فتح الباری میں ہے۔
حدیث زیاد بن الحارث عند ابی داؤد یدل علی الاکتفاء فانہ فیہ انہ اذن قبل الفجر باامر النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانہ استأذنہ فی الاقامة فمنعہ الٰی ان طلع الفجر فامرہٗ فاقام  (فتح الباری ج۳ ص۳۴۶)
’’زیاد بن حارث کی حدیث اذان قبل الفجر کے لیے کافی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیوں کہ اس حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زیاد بن الحارث نے اذان دی اور اس نے اقامت کی اجازت مانگی تو آپ نے اس کو روک دیا، یہاں تک کہ پو پھٹی، پھر آپ نے اس کو اقامت کا امر فرمایا، تو اس نے اقامت کہی۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان پو پھٹنے سے پہلے دی اور اسی پر کفایت کی دوبارہ اذان نہیں دلائی، لیکن حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے۔
وفی اسنادہ ضعف وایضاً فھی واقعہ عین وکانت فی سفر  (فتح الباری جز ۳ ص ۳۴۶)
’’اس حدیث کی سند میں ضعف ہے، نیز یہ خاص واقعہ ہے جو سفر میں پیش آیا۔‘‘
اور اصول کا قاعدہ ہے۔ کہ خاص واقعہ سے عام استدلال صحیح نہیں، کیوں کہ خاص واقعہ میں کئی احتمال ہوتے ہیں جو مانع استدلال ہیں۔
مالکیہ شافعیہ کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے۔ کہ اگر واقعہ خاص ہے مگر اس میں کوئی ایسا احتمال نہیں جو مانع استدلال ہو۔
رہا ضعف سند، تو یہ مسلم ہے، مگر عمل اہل مدینہ وغیرہ اس کے موافق ہے۔
اور عمل سلف اہل مدینہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مستقل حجت ہے، تقویت تو مستقل حجت نہ ہونے کی صورت میں بھی ہو جاتی ہے، مگر ایسے بڑے ائمہ کے نزدیک مستقل حجت ہونے سے مزید تقویت ہو گئی، پس ضعف سند سے جو اس حدیث میں کمی آ گئی تھی وہ اس عمل سے رفع ہو گئی۔ ہاں اس پر دو ڈبل اعتراض وارد ہو سکتے ہیں۔
(اول) یہ کہ اگر پہلی اذان کافی ہو سکتی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو اذانیں کیوں دلاتے، ایک اذان بلال رضی اللہ عنہ دیتے اور دوسری اذان ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔
(دوسرا اعتراض) یہ کہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان ایک مرتبہ غلطی سے پہلے دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اعلان کر دے۔  الا ان العبد نام خبردار! بندہ سو گیا۔ یعنی مجھے نیند آ گئی صبح کا پتہ نہ چلا، بندہ سونے لگا ہے۔ اس اذان کو معتبر نہ سمجھا جائے۔ اگر قبل الفجر اذان معتبر ہوتی تو پھر اس اعلان کی کیا ضرورت (۱؎) تھی؟ یہ مالکیہ اور شوافع کے اختلافات ہیں۔
احتیاط اختلاف سے نکل جانے میں ہے وہ یہ کہ اگر پہلی اذان دی جائے، تو اس پر اکتفا نہ کی جائے، بلکہ جیسے جمعہ کی دوسری اذان دی جاتی ہے خواہ پہلی ہو یا نہ، اسی طرح یہاں بھی دوسری اذان ضرور ہونی چاہیے۔ گویا پہلی اذان سنت ہے اور دوسری ضروری۔
اور دونوں کا فاصلہ کا اندازہ وہی ہے جو پہلے بیان ہوا ہے اس کا اندازہ تقریباً ایک گھنٹہ ہو سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلی اذان الفاظ کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ویسے اعلان تھا۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اذان کا حقیقی معنی شرعاً انہی الفاظ کے ساتھ اعلان ہے۔ پس یہی مراد ہو گا۔
(۱؎) اس حدیث کے متعلق اگرچہ حفاظ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس طرح غلط ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا ہے۔ ان کے مؤذن سے ایسی غلطی ہو گئی تھی۔ جس کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان مذکورہ کا حکم فرمایا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا واقعہ ہی سمجھ لیا جائے تو پھر عمل اہل مدینہ وغیرہ حدیث زید بن حارث کے موافق نہ رہا۔ کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اہل مدینہ ہیں۔ اس کے علاوہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری جز۳ صفحہ ۳۴۶ میں اس کو کئی سندوں سے ذکر کیا ہے، جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرفوع کی بھی کچھ اصل ہے بہر صورت یہ اعتراض بھی ڈبل ہے۔
دوم، اگر اذان کے الفاظ نہ ہوتے تو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے اشتباہ کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا تھا، حالانکہ حدیث سے ثابت ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس اشتباہ کا خطرہ ہوا۔‘‘ اس بناء پرآپ نے فرمایا، بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتا ہے۔ پس کھائو پیو۔ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے۔ ملاحظہ ہو فتح الباری جز ۳ ص ۳۴۶ پس پہلی اذان سنت ہے اگر دی جائے تو مسنون الفاظ سے دی جائے اپنی طرف سے کوئی بدعت قائم نہ کی جائے۔ ورنہ بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔  (تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۱۸ ش ۲۸)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 161۔167
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ