السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر مقتدیوں اور امام کے عقیدہ میں فرق ہو تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال میں عقیدہ کی وضاحت مرقوم نہیں اس لیے جواب مشکل ہے اگر عقیدہ میں اصولی اختلاف ہو یعنی کفر و اسلام کا فرق ہو تو نماز نہیں ہو گی اور اگر عقیدہ میں فروعی مسائل کا اختلاف ہو جیسے حنفی، شافعی، مالکی فرقوں میں فرق ہے تو نماز ہو جاتی ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۸ شمارہ نمبر ۳۷)