سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(354) مرثیہ خوانی اور محفل تعزیہ داری والے شخص کے پیچھے نماز کا حکم

  • 2639
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-28
  • مشاہدات : 1106

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 جو شخص مرثیہ خوانی کرے، اور محفل تعزیہ داری میں جاوے اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


 جو شخص مرثیہ خوانی کرے، اور محفل تعزیہ داری میں جاوے، سو ایسا شخص اگر نماز پڑھا رہا ہو، اور کوئی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو جاوے تو اس کی نماز ہو جاوے گی مگر ایسے شخص کو بالقصد امام نہیں بنانا چاہیے، اور نماز پڑھانے کے لیے آگے نہیں کرنا چاہیے اس واسطے کہ مرثیہ خوانی اور تعزیہ داری بلاشبہ فسق و فجور کے کام ہیں، اور فسق و فجورکا کام سے جو راضی ہو، اور اس کے محفل میں جاوے، وہ بھی فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز تو ہو جاتی ہے مگر اس کا بالقصد امام نہیں بنانا چاہیے۔ (حررہ عبد الرحیم اعظم گڈھی کوپوی، سید محمد نذیر حسین، فتاویٰ نذیریہ جلد اول صفحہ ۲۷۵)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 252
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ