سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(352) مشرک بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

  • 2637
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-28
  • مشاہدات : 1594

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مشرک بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث شریف میں ہے  فلیؤمکم خیارکم صالح عمل انسان امامت کرائے اس لیے مستقل امام پابند سنت چاہے مشرک و بدعتی درست نہیں اگر اس کا اشراک ابتداء سے واضح ہے تو پھر اس کی اقتداء ہر گز نہ چاہیے نماز نہ ہو گی۔ ہاں اگر کبھی کبھار اتفاقی طور پر ایسے امام سے پالا پڑ جائے تو طوہاً کرہاً اقتدا کر لینی چاہیے حدیث پاک میں ہے۔
«صَلّوا خلفَ کل برّو فاجر» ’’ہر ایک نیک و بد فاجر کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘
یہ گاہے ماہے کے لیے اجازت ہے۔  (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۱۳ شمارہ نمبر ۱۴)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 247
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ