سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(250) عقیقہ اور قربانی کی شرعی حیثیت بسلسلہ کیا اسلام میں قربانی جائز ہے

  • 26346
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 717

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے فاضل دوست حضرت مولانا محمد عبیداللہ خاں صاحب عفیف تدریس اور علم و تحقیق کے میدان میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وسعت مطالعہ اور استحضار کا یہ عالم ہے کہ جب قلم اٹھاتے ہیں تو متعلقہ موضوع کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہنے دیتے، کتاب و سنت پر ان کی نگاہ بہت گہری ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور فقہائے امت کے افکار نظریات اور اقوال کے محمل اور اطلاقات سے خوب واقف ہیں، زیر نظر مضمون پر بھی موصوف نے قلم اٹھا کر حسب روایت تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔ ترجمان الحدیث کے آپ دیرینہ کرم فرما ہیں جس کے لئے ادارہ ان کا خصوصی شکر گزار ہے۔ (عزیز زبیدی رحمہ اللہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو اسلامی نظام کا نفاذ نہیں چاہتے:

تشکیل پاکستان کے کچھ عرصہ بعد سے ملک میں اسلام دشمن گروہوں نے آپس میں اس امر کے لئے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ اور اس کے لئے مسلسل پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے کہ ملک میں اسلامی قانون نافذ نہ ہو، وہ تین گروہ یہ ہیں۔ (1) کمیونسٹ، (2) منکرین حدیث (پرویز پارٹی)، (3) مرزائی۔

یہ تینوں ٹولے اسلامی نظام اور اس کی تعبدی پابندیوں اور اخلاقی اصولوں سے لرزاں اور ترساں ہیں۔ انہیں قطعاً گوارا نہیں کہ پاکستان میں کوئی ایسا نظام زندگی قائم ہو جو خالص کتاب و سنت پر مبنی ہو۔ ان کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کے مسلمان اپنی تمام تر عملی کمزوریوں کے باوجود اسلامی نظام زندگی اور کتاب و سنت کے ساتھ بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ تینوں ٹولے اسلامی عقائد اور احکام کا برملا انکار کرنے کی اپنے اندر ہمت نہیں پاتے۔ بلکہ اسلامی عقائد و اعمال پر مختلف بہانوں سے حملہ کرتے ہیں۔ اور ان کی اہمیت گھٹانے میں کوشاں اور ان کا مذاق اڑانے میں جتے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا خواندہ طبقہ مرزائیوں کے علم کلام اور طریقہ واردات سے اب ناواقف نہیں رہا، لیکن انہیں یہ پتہ نہیں کہ کمیونسٹ اور پرویز پارٹی مرزائیوں سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔

کیا عقیقہ جاہلی رسم ہے:

جن مسائل شرعیہ کو ان دونوں گروہوں نے اپنی مزعومہ تحقیق و ریسرچ کی آماجگاہ بنا رکھا ہے، ان میں عقیقہ اور قربانی کے مسئلے بھی شامل ہیں۔ ان نام نہاد محققین کی تحقیق کا ماحصل یہ ہے کہ عقیقہ جاہلی رسم ہے۔ عید قربان کے موقعہ پر قربانی کا اہتمام کرنا معاذ اللہ قومی اموال کا بے محابا ضیاع ہے اور قومی دولت کا یہ اسراف ان کے مطابق قومی خیانت کا ارتکاب ہے۔ جہاں تک اس تحقیق زدہ لوگوں کے دلائل کی معقولیت کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ مرزائی ٹولے کی طرح ان کے ہاں بھی بس چند مغالطے اور مفروضے ہیں، جنہیں یہ نمک مرچ لگا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔

چنانچہ اسی طرح کا ایک مضمون 13 اکتوبر 1984ء کے روزنامہ جنگ لاہور میں "کیا عقیقہ دور جہالت کی رسم تھی" کے عنوان سے جناب ایم اشرف صاحب اعظم کلاتھ مارکیٹ کا شائع ہوا ہے جو دراصل جناب پروفیسر رفیع اللہ شہاب کے ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔ جو گزشتہ سال پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا تھا۔ چونکہ اس مضمون میں عقیقہ کے عدم جواز کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک غلط فتوے کی آڑ لے کر قربانی جیسے مسلمہ شعار اسلام اور چار ہزار سال سے رائج سنت متواتر کی اہمیت اور مشروعیت کو چیلنج کر کے ملت اسلامیہ پاکستان کے ذہنوں میں تشکیک کا زہر گھولنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے بہت سے احباب نے ہمیں اس مضمون کے تراشے اور فوٹو اسٹیٹ بھیج کر اس کا تحقیقی اور علمی جائزہ لینے کی فرمائشیں کی ہیں۔ مزید برآں جنگ کے ادارتی نوٹ میں بھی اس مؤقف پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ہے۔ چنانچہ پیش نظر مقالہ میں اسی مضمون کا تحقیقی اور علمی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ والله الهادي

وجہ مغالطہ:

پروفیسر رفیع اللہ صاحب کے مترجم ایم اشرف صاحب لکھتے ہیں:

"پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یہ فتویٰ صادر فرمایا کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش پر کوئی قربانی نہیں ہو گی۔" (بدائع الصنائع ج 5 ص 127)

جواب: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب یہ فتویٰ بوجوہ غلط ہے۔

احناف کا نظریہ عقیقہ سنت ثابتہ ہے

وجہ اول: یہ کہ اگرچہ امام حسن بصری، امام لیث بن سعد، داؤد ظاہری، ابن حزم، ابو زناد رحمۃ اللہ علیہم اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک عقیقہ واجب ہے۔ (فتح الباري: ج 9 ص 507 و محليٰ ابن حزم: ج 7 ص 529)

لیکن فقہاء و محدثین و جمہور علمائے امت اور ائمہ اہل بیت کے نزدیک عقیقہ سنت ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ج 9 ص 507، محليٰ ابن حزم ج 7 ص 528 و سبل السلام ج 4 ص 97 اور نيل الاوطار ج 5 ص 150)

ہمارے نزدیک جمہور کا مذہب ہی صحیح ہے کہ احادیث صحیحہ ثابتہ سے عقیقہ کا سنت ہونا متبادر ہے۔ احادیث ملاحظہ فرمائیے۔

عقیقہ اور احادیث:

1۔ حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ہر لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقہ لگا ہوا ہے، لہذا اس کی طرف سے عقیقہ کرو اور اس کے بال بناؤ۔ (صحيح بخاري: باب اماطة الازي عن الصبي في العقيقة ج 2 ص 822، جامع الترمذي مع تحفة الاحوذي: ج 2 ص 262 و ابو داؤد مع شرح عون المعبود ج 3 ص 66 محليٰ ابن حزم: ج 7 ص 524، نيل الاوطار: ج 5 ص 149)

2۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے اپنے عقیقہ میں مرہون (گروی) ہوتا ہے۔ اس کی ولادت کے ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔ (رواه احمد والاربعة و صححه الترمذي، سبل السلام ج 4 ص 98، نيل الاوطار ج 5 ص 149 و قال الترمذي هذا حديث حسن صحيح تحفة الاحوذي ج 2 ص 324)

3۔ لڑکا اور لڑکی کے عقیقہ کی تفصیل:

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں اور لڑکی کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کرنی چاہیے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس باب میں حضرت علی، ام کرز، بریدہ، سمرہ، ابو ہریرہ، عبداللہ بن عمر، انس، سلمان اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث منقول ہیں۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔ (تحفة الاحوذي شرح ترمذي: ج 2 ص 1362 سبل السلام شرح بلوغ المرام: ج 4 ص 97 اور نيل الاوطار: ج 5 ص 149)

حضرت ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ذبح کرنی ہو گی، خواہ عقیقہ کے مویشی مذکر ہوں یا مونث دونوں جائز ہیں۔ (رواه احمد والترمذي و صححه، نيل الاوطار: ج 5 ص 149 عون المعبود: ج 3 ص 66 و تحفة الاحوذي: ج 2 ص 362 و سبل السلام: ج 4 ص 98)

اول اور دوم دونوں صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ سنت ثابتہ ہے اور سوم چہارم دونوں صحیح احادیث سے مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ میں دو بکریاں اور لڑکی کی ولادت پر ایک بکری ذبح کرنی سنت ہے۔ ہاں، اعسار (مالی تنگی ترشی) کی وجہ سے لڑکے کے عقیقہ میں ایک بکری بھی کفایت کر سکتی ہے۔

ان احادیث صحیحہ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ عقیقہ سنت ثابت ہے اور یہ بات طے ہے کہ حدیث صحیح کے مقابلہ میں کسی امام کا قول اور فتویٰ نہ حجت ہے، نہ قابل اعتبار کیونکہ حجت فقط کتاب و سنت ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

"پھر اگر تم کسی بات پر جھگڑ پڑو تو اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جاؤ۔" (النساء: 59)

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ائمہ کرام نے صاف صاف لفظوں میں اپنی تقلید کے علی الرغم حدیث پر عمل کرنے کی وصیت فرما دی ہے۔

1۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (اذا صح الحديث فهو مذهبي)۔ (رد المختار: ج1 ص 68) "جب حدیث مل جائے تو وہ حدیث ہی میرا مذہب ہے۔"

2۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کا قول و فتویٰ رد اور اخذ کی زد سے باہر ہو۔ (حجۃ اللہ: ج1 ص 157)

3۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو کچھ حدیث میں ہے بس میرا وہی مذہب ہے۔ (حجۃ اللہ ج1 ص 157)

4۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی اور دوسرے مجتہدین کی تقلید سے منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ احکام و مسائل کتاب و سنت سے اخذ کرو۔ (ایضاً)

5۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہمیں صحیح حدیث مل جائے جو ہمارے امام کے مذہب کے خلاف ہو اور ہم اس حدیث کو چھوڑ کر اپنے امام کے قیاس و تخمین کی پیروی پر ڈٹے رہیں تو اس صورت میں نہ تو کوئی شخص ہم سے زیادہ ظالم ہو گا اور نہ قیامت کے دن رب العالمین کے سامنے ہماری کوئی معذرت قبول ہو گی۔

4۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(لا حجة في قول احد مع رسول الله صلي الله عليه وسلم) (محليٰ ابن حزم: ج 7 ص 366 و ص 375)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی بھی امتی کا قول حجت نہیں۔"

ان تصریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ صحیح حدیث کے ہوتے ہوئے بڑے سے بڑا مجتہد اور امام بھی اتھارٹی (سند) نہیں، خواہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہوں یا کوئی اور صاحب خواہ ایک ہوں یا سینکڑوں۔ غرض یہ کہ چونکہ امام ابو حنیفہ کا فتویٰ احادیث صحیحہ غیر منسوخہ کے سراسر خلاف ہے لہذا حجت نہیں تعجب ہے کہ پروفیسر صاحب ایک طرف تو نبی معصوم کی احادیث صحیحہ محکمہ کا انکار کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے غلط نظریہ کی تقویت و ترویج میں غیر معصوم امتی (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ) کے ایک مشکوک فتویٰ کا سہارا لینے میں عار محسوس نہیں کرتے۔

وجہ دوم: اس فتویٰ کے غلط ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ان احادیث صحیحہ کا علم نہ تھا ورنہ وہ ایک ضعیف حدیث کی بنیاد پر غلط فتویٰ کبھی صادر نہ فرماتے۔

امام ابن حزم رحمہ اللہ اس فتویٰ کا نوٹس لیتے ہوئے لکھتے ہیں:

(ولم يعرف ابو حنيفه رحمة الله عليه العقيقة فكان ماذا؟ ليست شعري اذ لم يعرفها ابو حنفيه رحمة الله عليه ما هذا بنكرة فطال مالم يعرف السنن) (محليٰ ابن حزم ج 7 ص 529)

"عقیقہ والی صحیح حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم میں نہ تھیں اور ان کو ان احادیث صحیحہ ثابت کا علم نہ ہونا کوئی اَن ہونی بات نہیں آپ کو اور بھی بہت سی سنتوں کا علم نہ تھا۔"

امام شوکانی اس فتویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (وهذا ان صح عنه حمل علي انها لم تبلغه الاحاديث الواردة في ذلك) (نيل الاوطار ج 5 ص 150)

"اگر واقعی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یہ فتویٰ صادر فرمایا تھا تو ان کا یہ فتویٰ مذکورہ احادیث صحیحہ سے بے خبری پر محمول کرنا چاہیے۔"

ابو الحسنات عبدالحی حنفی لکھنوی لکھتے ہیں:

(وفي الباب احاديث كثيرة قد دل علي مشروعيتها واستحبابها، بل بعضها يدل علي الوجوب، فلاں اقل ان يكون مستحبا بل سنة۔ لعلها لم تبلغ امامنا حيث قال انها مباحة) (التعليق المنجد: ص 289)

"عقیقہ کے بارے میں احادیث بکثرت منقول ہیں جو اس کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، بعض تو اس کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔ وجوب نہ سہی عقیقہ کا سنت اور مستحب ہونا بلاشبہ ثابت ہے۔ ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے عقیقہ کو جو مباح کہا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یہ احادیث نہیں پہنچی ہوں گی۔"

اور یہ قرین قیاس بھی ہے ورنہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ عقیقہ کا انکار نہ کرتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

وجہ سوئم، عقیقہ اور علمائے احناف:

جہاں امام مالک، امام شافعی، امام احمد رحمہم اللہ جیسے ائمہ مجتہدین، فقہاء، محدثین اور جمہور امت نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس فتویٰ سے اختلاف کرتے ہوئے عقیقہ کو سنت قرار دیا ہے۔ وہاں تمام علمائے احناف نے بھی امام صاحب کے اس فتویٰ کو مسترد کر کے عقیقہ کو بعض نے سنت اور اکثر احناف نے مستحب کہا ہے۔

1۔ علامہ بدر الدین عینی:

امام صاحب کی طرف اس فتویٰ کی نسبت کو چیلنج کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"یہ جھوٹ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے عقیقہ کو بدعت (جاہلی رسم) کہا ہے۔ انہوں نے تو اس کے مسنون ہونے کا انکار کیا ہے۔ (حاشيه صحيح بخاري: ج 2 ص 821)

2۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی:

عقیقہ کو سنت قرار دیتے ہیں۔ (شرح سفر سعادت بحواله فتاويٰ عبدالحي: ص 388)

3۔ علامہ شامی حنفی کا فتویٰ:

فرماتے ہیں جن کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ ولادت کے ساتویں روز بچے کے بال بنائے جائیں اور اس کا عقیقہ ذبح کیا جائے۔ جیسا کہ جامع المحبوبی میں لکھا ہے۔ (رد المختار: ج 6 ص 236)

4۔ علامہ عبدالحی حنفی لکھنوی کا وضاحتی بیان عقیقہ کی مخالف روایت:

فرماتے ہیں کہ جس روایت کی بنیاد پر عقیقہ کو جاہلی رسم کہا گیا ہے وہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس روایت کے دو راویوں مسیب بن شریک اور عقبہ بن یقظان، (استاد، شاگرد) دونوں کو اہل فن اور ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف کہا ہے۔ لہذا یہ روایت اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کی وجہ سے عقیقہ کو جاہلی رسم کہا جائے۔ علاوہ ازیں اگر عقیقہ منسوخ ہو چکا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ نہ کرتے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی اولاد کا عقیقہ کرتے۔ جیسا کہ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ میرے والد عروہ بن زبیر اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی طرف سے عقیقہ کیا کرتے تھے۔ خلاصہ کلام یہ کہ عقیقہ کی مشروعیت اور اس کے استحباب پر متعدد احادیث صحیحہ دلالت کرتی ہیں۔ لہذا یہ ضعیف روایت ہرگز قابل اعتبار نہیں۔ (التعليق المنجد علي موطاء امام مالك: ص 291)

موصوف ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے ذبح کرنے چاہئیں، تاہم استطاعت اور قدرت نہ ہونے کی صورت میں ایک پر بھی اکتفا درست ہے۔ (فتاويٰ عبدالحي: ص 289)

5۔ مولانا اشفاق الرحمٰن کاندھلوی:

لکھتے ہیں: بدائع الصنائع والی روایت سے نفس عقیقہ کا نسخ مراد نہیں بلکہ عقیقہ کے وجوب کا نسخ مراد ہے کیونکہ قربانی 1ھ میں شروع ہو گئی تھی اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ 3ھ اور 4ھ میں ہوا تھا۔ اسی طرح حضرت ام کرز کعبیہ سے بھی عقیقہ کی صحیح حدیث مروی ہے اور اس بی بی نے یہ حدیث صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ اور صلح حدیبیہ 6ھ میں ہوئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے آخری جگر گوشہ سیدنا ابراہیم بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیقہ کرنا بھی ثابت ہے۔ اور یہ واقع 9ھ کا ہے۔ لہذا اگر عقیقہ منسوخ ہو گیا ہوتا، جیسا کہ اس فتویٰ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تین عقیقے کرنا اور ام کرز کعبیہ کو عقیقہ کا مسئلہ بیان کرنا ناقابل فہم بات ہے۔ کیونکہ ناسخ کے لئے منسوخ سے متاخر ہونا ضروری شرط ہے۔ فافهم ولا تكن من القاصرين۔ (كشف المغطا حاشيه موطا امام مالك: ص 494)

6۔ مولانا عزیز الرحمان دیوبندی کا فتویٰ:

صحیح یہ ہے کہ مذہب حنفیہ میں عقیقہ مستحب ہے۔ (جواب سوال نمبر 1296 عزيز الفتاويٰ المعروف فتاويٰ دارالعلوم ديوبند: ص 716 ج 1)

7۔ حکیم الامت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی 1176ھ

رسم عقیقہ کی تحقیق کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

عرب اپنی اولاد کا عقیقہ کرتے تھے اور اس کو لازم اور سنت مؤکدہ سمجھتے تھے، چونکہ اس میں بہت سی مادی، مدنی اور روحانی مصلحتیں کارفرما ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو قائم رکھتے ہوئے خود بھی اس پر عمل کیا اور امت کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی۔ (حجة الله البالغة: ج 2 ص 144)

ان سات شہادتوں سے معلوم ہوا کہ خود علمائے احناف کے ہاں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہ فتویٰ صحیح نہیں۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ عقیقہ سنت ثابت ہے کہ بکثرت احادیث صحیحہ ثابتہ اس پر شاہد عدل ہیں سلف صالحین اور جمہور علمائے امت قرناً بعد قرن اس سنت پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ لہذا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک غلط فتویٰ کی آڑ میں اس کو جاہلی رسم قرار دے کر منسوخ ٹھہرانا نہ صرف حق و انصاف کا خون کرنا ہے بلکہ انکار حدیث کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ اعاذنا الله منه

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص627

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ