سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(343) مسجد امام سے عورت نکاح نہیں کرنا چاہتی وہ اسے ورغلا کر نکاح کے لیے آمادہ کر لیتا ہے تو ایسے امام کے پیچھے نماز کا حکم

  • 2628
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-26
  • مشاہدات : 709

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک امام مسجد کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے مگر وہ عورت اس پر رضا مند نہیں ہے عورت منکوحہ ے امام اسے ورغلاتا ہے اور ہر طرح سے کوشش کرتا ہے کہ وہ پہلے خاوند کو چھوڑ دے۔ چنانچہ اس پر فساد ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص امامت کے قابل ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


 اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو یقینا ایسا امام امامت کے قابل نہیں ہے کیونکہ امامت کے متعلق چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
«اِجْعَلُوْا ائمتکُمْ خِیَارِکُمْ لَا یُؤَمِّنکُمْ فَاجِرٌ »
فاسق و فاجر کو امام نہ بنائو یہ کام جو امام مذکور کر رہا ہے شرعاً ناجائز ہیں۔ اور کھلا ہوا فسق ہے۔ اس لیے وہ امامت کا اہل نہیں ہے ابو داؤد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
«لیس منا من خبب امرأته عَلٰی زَوْجِھَا»
جو کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارے ورغلائے اور اس سے جدا کرنا چاہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۱۶)

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الصلاۃجلد 1 ص 245
محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ