السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
امام مسجد اگر وقت کی پابندی نہ کرے اور اس وجہ سے نمازیوں میں انتشار پیدا ہو جائے تو ایسے امام کی امامت جائز ہے یا نہیں؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
محض وقت کے اختلاف پر کسی کی امامت کے عدم جواز کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا البتہ کوشش کرنی چاہیے امام اپنے مقرر کردہ وقت کی پابندی کرے وقت کے تقرر میں درحقیقت امام مختار ہے مقتدیوں کو صبر و شکیبائی سے کام لینا چاہیے اور پانچ پانچ اور دس دس منٹ اختلاف و انتشار پیدا نہیں کرنا چاہیے بے شک اول وقت نماز کا اجر بہت بڑا ہے مگر اتفاق و اتحاد قائم رکھنے کا اجبر بھی کچھ کم نہیں ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۱۴)