سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(45)توسیع کے لیے مسجد گرا کر دوسری جگہ پر مسجد تعمیر کرنا:

  • 26221
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 518

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مسجد خام و چھوٹی سلف سے موجود تھی، جس کی دیواروں کو ایک رئیس نے، جو وہاں کا متولی اور نگہبان تھا، بقصد تعمیر پختہ و وسیع توڑ ڈالا۔ اب ظاہر ہوا کہ جانب جنوب و شمال کچھ قبریں اس کی دیوار سے اس طرح لاحق ہیں کہ اگر صحن وسیع کیا جائے گا مطابق وسعت مسجد کے تو وہ قبریں وسطِ صحن میں پڑ جائیں گی اور اس کے پچھم طرف ہنود کے مکان ہیں کہ وہ ہرگز نہیں دے سکتے۔ اگر دوسری جگہ مسجد بنائی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب کوئی زمین ایک بار مسجد قرار پا چکی تو اب وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہوگئی، اس کا مسجد ہونا باطل نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں دوسری جگہ مسجد تو بنانا ناجائز نہیں ہے، لیکن اول مسجد کی جگہ چھوڑ دینا اور اس کے مسجد ہونے سے دست بردار ہوجانا یا اس کی جگہ کوئی اور چیز بنوانا، جس سے اس جگہ کے احترام میں فرق آئے اور جُنب اور حائض وغیرہما اس میں جانے کے مجاز ہو جائیں، یہ امر بالضرور ناجائز ہے۔ مذہبِ احناف میں یہی مفتی بہ ہے۔ فتاویٰ عالمگیری (۲/ ۵۴۷ مطبوعہ بند رہو گلی) میں ہے:

"ولو کان مسجد في محلة، ضاق علیٰ أھلہ، ولا یسعھم أن یزیدوا فیہ فسألھم بعض الجیران أن یجعلوا ذلک المسجد لہ، لیدخلہ في دارہ، ویعطیھم مکانھم عوضا ما ھو خیر لہ، فیسع فیہ أھل المحلۃ، قال محمد: لا یسعھم ذلک، کذا في الذخیرة"

[اگر ایک محلے میں مسجد ہو، جو وہاں کے رہنے والوں کے لیے تنگ ہوگئی ہے اور وہ اس میں اضافہ کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تو ان سے ایک ہمسایہ کہے کہ وہ یہ مسجد اسے دے دیں، تاکہ اس (جگہ) کو اپنے گھر میں شامل کر لے اور وہ اس کے بدلے میں انھیں اس سے بہتر جگہ دے دے، جو اہلِ محلہ کے لیے کافی ہو، امام محمد رحمہ اللہ  نے کہا ہے کہ ان کے لیے اس عمل کی گنجایش نہیں ہے]

(صفحہ : ۵۴۸) میں ہے:"في وقف الخصاف: إذا جعل أرضہ مسجداً و بناہ، وأشھد أن لہ إبطالہ وبیعہ، فھو شرط باطل، ویکون مسجداً"[1] اھ[جب ایک شخص اپنی زمین مسجد کو دے دے اور اس کو تعمیر کرے اور گواہ بنائے کہ وہ اس کو ختم بھی کر سکتا اور بیچ بھی سکتا ہے تو یہ شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہی رہے گی] نیز اسی صفحہ میں ہے:

"وإذا خرب المسجد، واستغنیٰ أھلہ، و صار بحیث لا یصلی فیہ، عاد ملکا لواقفہ أو لورثتہ، حتی جاز لھم أن یبیعوہ أو یبنوہ دارا، وقیل: ھو مسجد أبداً، وھو الأصح، کذا في خزانة المفتین۔ في فتاویٰ الحجۃ: لو صار أحد المسجدین قدیما، وتداعیٰ إلی الخراب فأراد أھل السکة بیع القدیم، وصرفہ في المسجد الجدید فإنہ لا یجوز۔۔۔ الخ"[2]

[جب مسجد ویران ہوجائے اور وہاں رہنے والے اس سے بے نیاز ہوجائیں کہ وہاں نماز بھی نہیں پڑھی جاتی تو وہ اس کو وقف کرنے والے یا اس کے ورثا کی دوبارہ ملکیت بن جائے گی، حتی کہ ان کے لیے اسے بیچنا یا اسے گھر بنانا جائز ہوگا، لیکن ایک قول کے مطابق وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہی رہے گی اور یہی زیادہ صحیح ہے، جیسا کہ "خزانۃ المفتین" میں ہے۔ فتاویٰ الحجہ میں ہے کہ اگر دو مسجدوں میں ایک بہت پرانی ہوجائے اور ویرانی کا شکار ہوجائے تو محلے والے چاہیں کہ پرانی کو بیچ کر اس (کی آمدنی) کو نئی مسجد میں صَرف کر دیں تو یہ جائز نہیں ہے]

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:105

محدث فتویٰ


[1]                الفتاویٰ الھندیة (۲/ ۴۵۷)

[2]                الفتاویٰ الھندیة (۲/ ۴۵۸)

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ