سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(36) لڑکے اور لڑکی کے پیشاب سے کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ:

  • 26212
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-02
  • مشاہدات : 866

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کہتا ہے کہ اگر لڑکا چھ مہینے کا ہو اور وہ کسی کپڑے پر پیشاب کر دے تو وہ کپڑا پاک ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے: عن أبي السمح رضی اللہ عنہ  قال قال رسول   اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم : (( یغسل من بول الجاریۃ ویرش من بول الغلام )) (أخرجہ أبو داود والنسائي والحاکم) [1] [ابو سمح رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر چھڑکاؤ کیا جائے گا] جب کہ عمرو یہ کہتا ہے کہ کیا لڑکا ہو یا لڑکی، اگر وہ کسی کپڑے پر پیشاب کر دے تو وہ ناپاک ہے اور کوئی دلیل قوی نہیں دیتا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث مذکور بالا سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ لڑکی کا پیشاب دھو ڈالا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے یعنی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے، لیکن جس کپڑے میں پیشاب لگ جائے، اس کے تطہیر، یعنی پاک کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ لڑکی کے پیشاب میں دھونا ضروری ہے اور لڑکے کے پیشاب میں صرف پانی چھڑک دینا کافی ہے۔ اس حدیث سے اُن لوگوں کا قول رد ہوجاتا ہے، جو کہتے ہیں کہ دونوں میں دھونا ضروری ہے-

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:98

محدث فتویٰ


 [1]    سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۷۶) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۰۴) المستدرک (۱/ ۲۷۱)

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ