سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(26) قرآن و حدیث کی تعریف

  • 26202
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1198

سوال

(26) قرآن و حدیث کی تعریف

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن یعنی کلام   الله کس کو کہتے ہیں؟

  حدیث یعنی حدیثِ رسول الله کس کو کہتے ہیں؟

  اصطلاحِ شرع میں حدیثِ قدسی کس کو کہتے ہیں؟

  ہم مسلمان بہت آسانی کے ساتھ کیونکر معلوم کر سکتے ہیں کہ قرآن شریف اور حدیثِ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  اور حدیثِ قدسی میں کیا فرق ہے؟

  عام طور پر یہ جو مشہور ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ اور اس کا مفہوم یہ دونوں منزل من   الله ہیں اور حدیث شریف کا مفہوم تو مع حدیث قدسی محض قرآن پاک کا ہے اور اس کے الفاظ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہیں، یہ خیال عوام کا کیسا ہے؟ چونکہ ترمذی میں ایک حدیث ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: (( فضل کلام   الله علیٰ سائر الکلام کفضل   الله  علی سائر خلقہ )) [1] یعنی بزرگی کلام   الله کی تمام کلاموں پر ایسی ہے، جیسے بزرگی   الله عزوجل کی اپنی مخلوق پر۔

اب میں محض اسی وجہ سے کہ حدیث شریف اور کلام   الله کو اگر کلامِ الٰہی مان لوں اور در حقیقت قرآن کلامِ الٰہی اور حدیث شریف صرف کلامِ رسول ہوا تو دونوں کو بحیثیت کلام مساوی ماننے کی حالت میں ایسا نہ ہو کہ شرک لازم آجائے، اس لیے بخوف﴿حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ﴾ اس مسئلے کی تحقیق کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ امید ہے کہ آپ بھی برائے خدا اگر کوئی فرق ہو تو اس باریکی سے مطلع فرمائیں، اگر نہ ہو تو تحریر فرما دیجیے، تاکہ ہم اس کے موافق عمل کریں، کیونکہ حدیث کے ماننے میں تو ہمارا پورا عقیدہ ہے کہ بموجب حکم خدا﴿ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ﴾ حدیث و قرآن کو اپنا واجب العمل گردانتے ہیں، کیونکہ جب ہم خدا و رسول کے ماننے کا اقرار کرتے ہیں تو اس صورت میں ماننے والے دونوں کے ہیں، لیکن خدائے تعالیٰ کو خدا تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کا رسول جانتے ہیں، کیونکہ ’’رب‘‘ اور ’’عبد‘‘ کا فرق نہ کرنے کی صورت میں شرک لازم آجائے گا، اسی وجہ سے کلامِ ررب اور کلامِ عبد میں فرق کرنے کا خیال ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ جناب کی خدمت میں اپنے شکوک کو پیش کیا گیا۔

المستفتي: سید جواد علی رضوی۔ تاریخ ۱۵؍ جمادی الاول ۱۳۳۱ھ۔ از علی گڑھ بازار سبزی منڈی


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  قرآن الله تعالیٰ کے اس کلام مقدس کو کہتے ہیں، جو حضرت محمد رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوا، جس کا نزول حضرت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  پر بطریق تواتر ثابت ہوا، جس کے ساتھ مخالفینِ اسلام سے تحدی، یعنی معارضہ طلب کیا گیا:﴿قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ﴾ الآیۃ، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے عہد میں جمع کیا گیا، جس کی نقلیں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ  نے کراکر تمام اسلامی دنیا میں شائع کیا، جو آج تک تمام دنیا میں شائع ہے، جس کو اس وقت سے اب تک ہر زمانے میں لاکھوں حافظ حفظ کرتے چلے آئے۔

  حدیث، یعنی حدیثِ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  اس قول و فعل اور تقریر کو کہتے ہیں، جو رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف منسوب ہو یا وہ قول جس کی نسبت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہو کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے اور وہ مندرجہ قرآن نہ ہو، گو وہ قول و فعل یا تقریر کلامِ الٰہی ہی سے ماخوذ ہو، لیکن اس کی نسبت صراحتاً فرمایا گیا ہو کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے۔

  اصطلاحِ شرع میں حدیثِ قدسی (حدیثِ الٰہی) اس حدیث کو کہتے ہیں، جس میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح فرما دی ہو کہ   الله تعالیٰ فرماتا ہے، جیسے: (( عن أبي ھریرۃ قال قال رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم : قال   الله تعالیٰ: أعددت لعبادي الصالحین ما لا عین رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علی قلب بشر )) (متفق علیہ، مشکوۃ، ص: ۴۸۷)[2]  [سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ   الله تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کیا ہے، جو کسی آنکھ نے دیکھا ہے، کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال ہی آیا ہے]

  ان تینوں امور میں فرق جوابات نمبر ہائے مذکورہ بالا سے بآسانی معلوم کر سکتے ہیں۔

  قرآن پاک کے الفاظ یقینا باَعیانہا منزل من   الله ہیں اور حدیث شریف کے الفاظ کی نسبت یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ منزل من  الله ہیں، اگرچہ حدیث قدسی ہی کیوں نہ ہو، لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ حدیثیں جو فی الواقع رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  سے صادر ہوئی ہیں، جو متعلق بہ تبلیغِ رسالت ہیں، وہ داخلِ وحی ہیں، کیونکہ   الله تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی ۔ اِِنْ ھُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی﴾ [النجم: ۳، ۴]

[اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے]

اور حدیث ترمذی منقولہ سوال نمبر5 صحیح نہیں ہے، اس میں ایک راوی عطیہ ہے، جو کثیر الخطا اور مدلس ہے اور اس نے اس حدیث کو ’’عن‘‘ کے ساتھ روایت کی ہے اور مدلس جو حدیث ’’عن‘‘ کے ساتھ کرے، وہ حدیث صحیح نہیں ہے اور ابو سعید جس سے عطیہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے، معلوم نہیں کون ہے؟ ظنِ غالب یہ ہے کہ یہ ابو سعید محمد بن سائب کلبی ہے، جو متہم بکذب و متہم بالوضع ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:89

محدث فتویٰ


[1]    سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۹۲۶) سنن الدارمي (۲/ ۵۳۳) اس کی سند میں"عطیہ عوفی"راوی ضعیف ہے۔ دیکھیں: السلسلة الضعیفة، رقم الحدیث (۱۳۳۵)      

[2]صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰۷۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۸۲۴) مشکوة المصابیح (۳/ ۲۲۰)

 

تبصرے