سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مذاق اڑانا اور تفاسیرِ صحابہ کی حجیت:

  • 26200
  • تاریخ اشاعت : 2021-01-22
  • مشاہدات : 11

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

:     1۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  پر ہنسی اور تمسخر کرنا کیسا ہے؟

2۔  تفاسیرِ صحابہ رضی اللہ عنہم  اوروں کی تفاسیر پر مقدم ہیں یا نہیں؟  سائل: مولوی احمد   الله صاحب امرتسری


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

:     1۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  پر ہنسی اور تمسخر کرنا، ایسے احمق، نادان یا سخت بیہودہ لوگوں کا کام ہے، جو ان بزرگوں کے فضائل و مناقب سے بے خبر یا منکر ہیں۔ بھلا کوئی ایسا شخص جو اس بات کو جانتا اور ایمان رکھتا ہو کہ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے: (( أکرموا أصحابي، فإنھم خیارکم )) [1] [میرے صحابہ کا احترام کرو،  کیونکہ  وہ تم میں سب سے زیادہ بہتر ہیں] اور فرمایا: (( لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذھبا ما بلغ مد أحدھم ولا نصیفہ )) [2] [یقینا اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا (راہِ خدا میں) خرچ کرے تو وہ ان (صحابہ کرام) کے ایک مد (تقریباً آدھا کلو) یا اس کے آدھے حصے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا]

ان بزرگوں پر ہنسی اور تمسخر کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں، ہر گز ہر گز نہیں۔ ہاں صرف اتنی بات کہ ’’کسی شخص (کائناً من کان) کے قول کو اس وجہ سے قبول نہ کرنا کہ قول مذکور اُس شخص کی محض ایک رائے ہے۔‘‘ کوئی قابلِ ملامت امر نہیں ہے اور نہ یہ اُس شخص پر ہنسی اور تمسخر کرنے میں معدود ہو سکتا ہے۔ جب رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے خاص اپنی رائے کی نسبت صاف فرما دیا کہ ((إذا أمرتکم بشییٔ  من رأیي فإنما أنا بشر )) [3] [جب میں تمھیں اپنی رائے سے کوئی حکم دوں تو میں صرف ایک بشر ہوں] تو دوسرے کسی شخص کی رائے کس شمار و قطار میں ہے؟

2۔  تفاسیرِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، بلکہ تمام آثارِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  جو مرفوع حکمی کے درجے کو پہنچے ہوئے ہیں، تمام پچھلوں کی تفاسیر اور اقوال اور آراے محض پر  بلاشبہ مقدم ہیں، کیونکہ تفاسیر و آثار مذکورہ درحقیقت رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  کی تفاسیر اور اقوال اور افعال اور تقاریر ہیں۔ 

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:88

محدث فتویٰ


[1]                سنن النسائي الکبریٰ (۵/ ۳۸۷) مشکاة المصابیح (۳/ ۳۰۸)

[2]                صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۷۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۴۱)

[3]              صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۶۲)

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ