سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(20) آیتِ کریمہ:﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ کا معنی:
  • 26190
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1059

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

معجزہ شق القمر کا قرآن سے ثابت ہے تو کس آیت سے؟ اگر سورۃ قمر کی پہلی آیت سے اس کا ثبوت ہے تو﴿اِقْتَرَبَتِ﴾ صیغہ ماضی ہے۔ معنی میں استقبال کے اور اسی طرح﴿انْشَقَّ﴾ بھی صیغہ ماضی ہے تو اس کے بھی معنی استقبال کے ہونا چاہیے، اس مسئلے کی پوری تحقیق ہونا بہت ضروری ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معجزہ شق القمر سورت قمر کی پہلی آیت﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُوَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ القمر: ۱] [قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا] سے ثابت ہے اور اس میں دونوں صیغے (اقتربت وانشق) لفظاً و معناً ماضی ہیں، کوئی ان میں سے معناً مستقبل نہیں ہے۔


 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:74

محدث فتویٰ

تبصرے