سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(09) قادیانیوں سے راہ و رسم

  • 26174
  • تاریخ اشاعت : 2021-01-21
  • مشاہدات : 50

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قادیانیوں سے راہ و رسم ہے اور بھاگل پوری کپڑے ان کے یہاں بیچنے جاتا ہوں۔ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہیں اور لین دَین رکھیں یا نہیں؟ کھانا کھائیں اور کھلائیں یا نہیں؟ سلام علیک ان کے ساتھ کریں یا نہیں؟ اگر پہلے وہ لوگ سلام علیک کریں تو اس کا جواب دیں یا نہیں؟مقام ناتھ نگر، ڈاکخانہ چمپانگر بھاگل پور، نوازش حسین پسرامومیان


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انس بن مالک رضی اللہ عنہ  سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ رسول   الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جو شخص کلمہ گو ہو اور کعبہ رخ نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے اور ہماری طرح ذبح کرے تو وہ شخص مسلمان ہے۔ جو احکام مسلمان کے ہیں، وہی اس کے ہیں، تو اگر قادیانی ایسے ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور ان کے ساتھ لین دَین بھی رکھیں اور کھانا کھلانا بھی اور سلام علیک بھی۔   [1]حدیث مذکورہ کے الفاظ یہ ہیں:

(( أمرت أن أقاتل الناس حتی یقولوا لا إلٰہ إلا الله فإذا قالوھا، وصلوا صلاتنا، واستقبلوا قبلتنا، وذبحوا ذبیحتنا، فقد حرمت علینا دماء ھم وأموالھم إلا بحقھا، وحسابھم علی  اللّٰه ))  [2]

[مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں، حتی کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کر لیں، پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری نماز پڑھیں اور ہمارے قبلے کو تسلیم کریں اور ہمارے طریقے کے مطابق ذبح کریں تو ہمارے لیے ان کے خون اور مال محترم ہیں سوائے ان کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ کے پاس ہے]

دوسری روایت میں ہے:

(( من شھد أن لا إلٰہ إلا  اللّٰه ، واستقبل قبلتنا، وصلیٰ صلاتنا، وأکل ذبیحتنا فھو المسلم، لہ ما للمسلم، وعلیہ ما علی المسلم )) و  الله تعالیٰ أعلم۔ (بخاري شریف، مصري: ۱/ ۵۲)  [3]

[جس نے کلمہ توحید کی گواہی دی، ہمارے قبلے کو تسلیم کیا، ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارا ذبیحہ کھایا پس وہ مسلمان ہیں اس کے وہی حقوق ہیں جو ایک مسلمان کے ہیں اور اس کے ذمے وہی فرائض ہیں جو ایک مسلمان کے ہیں]

 

 


[1] لیکن قادیانی چونکہ ایسے نہیں کہ ان کے کلمے اور قبلے وغیرہ کے متعلق وہی تصورات ہوں، جو دیگر مسلمانوں کے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ رشتہ تعلق اور علیک سلیک وغیرہ دیگر معاملات عام مسلمانوں کی طرح نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم قوم کی طرح ہونے چاہئیں، اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لیے شیخ الاسلام مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کا مرتب کردہ ’’علماے اسلام کا اولین متفقہ فیصلہ‘‘ دیکھیں، جس میں تمام مسالک کے سربرآوردہ علما نے قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد و نظریات کی بدولت انھیں غیر مسلم قرار دیا ہے۔

[2]              صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۸۵)

[3]              مصدر سابق۔ یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:47

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ