سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(03) کلمہ طیبہ کا حقیقی معنی

  • 26163
  • تاریخ اشاعت : 2021-01-20
  • مشاہدات : 64

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شخصے می گوید کہ معنی حقیقی و مفہوم تحقیقی این کلمۂ توحید یعنی لا الٰہ الا الله ہمین است کہ ہیچ چیز غیر حق نیست، بلکہ تمامی اشیاء باعتبار حقیقت عین وے اند، اگرچہ باعتبار تعین و تشکل اعتباری غیر ہستند و در حق ہمگی علمائے سابقین کہ قائلیں ایں معنی نبودند میگوید کہ تمامی محدثین و مفسرین و جملہ فقہائے متکلمین شرقاً و غرباً، جنوباً و شمالاً و سلفاً و خلفاً کلمہ طیبہ را بکلمہ خبیثہ بدل کردند، یعنی لا الٰہ الا الله ولا الٰہ غیر   الله بلا الٰہ الا غیر الله تبدیل دادند و از صراط مستقیم توحید پا بیروں نہادند الرزیۃ کل الرزیۃ تمت عبارتہ بالفاظہ۔ و دیگرے دریں قول وے نظرے میکند کہ معنی مذکور از ادق مسائل است وکد امی ادق مسائل تعلیم اولین ہر امی و دانشمند نتواند و حال این کہ معنی حقیقی کلمہ طیبہ تعلیم اولین ہر امی و دانشمند است پس لا بدی معنی کلمہ طیبہ نہ آنست کہ مذکور شد و سپس آں میگو یدکہ ترکیب کلمہ طیبہ مثل ترکیب لا کاتب الا زید، ولا خاتم النبیین الا محمد است، و چوں مراد ازیں ہر دو ترکیب ہمین است کہ حصر صفتِ کتابت در زید است و حصر صفتِ ختم نبوت در محمد صلی اللہ علیہ وسلم  و در غیر آں یافتہ نشود پس ہم چنیں لا الٰہ الا   الله را با ید فہمید، چہ الٰہ بمعنی معبود است، پس معنی وی لا معبود الا   الله است یعنی حصر صفت معبودیت در الله است و در غیر آں نیست چہ در اعتقاد مشرکین بود کہ   الله تعالیٰ و دیگر مخلوق وے لا معبود در صفتِ معبودیت مشترک اند و عبادت غیر وے را نیز می کردند کلمہ طیبہ از بہر رد اعتقاد اوشاں نازل گردید پس معنی لا الٰہ الا   الله جز ایں نیست کہ نیست معبودے مگر الله ہم چنیں معنی لا کاتب الا زید نیست کاتبے مگر زید، و در حق علمائے کرام از اہل اسلام ایں زعم کردن کہ او شایاں کلمہ طیبہ را بکلمہ خبیثہ تبدیل دادند و از صراط مستقیم با بیروں نہادند نافہمی زاعم است و خوف تلف ایمان وی واللّٰه أعلم وعلمہ أتم و أحکم۔

 الحال استفسار است کہ قول شخص اول صحیح است یا شخص آخر بہ تقدیر اول جواب نظر مطلوب است بر تصدیر ثانے تصدیق و تصحیح آں۔

[ایک شخص کہتا ہے کہ کلمۂ توحید یعنی "لا إلٰہ إلا  اللّٰه "کا حقیقی معنی اور تحقیقی مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز غیرِ حق نہیں ہے، بلکہ حقیقت کے اعتبار سے تمام اشیا اس کا عین ہیں، اگرچہ تعین و تشکل کے اعتبار سے غیر ہیں۔ سابقہ علما میں سے جو اس معنی کے قائل نہیں تھے، ان کے حق میں وہ کہتا ہے کہ مشرق و مغرب، شمال و جنوب اور سلف و خلف کے تمام محدثین، مفسرین اور جملہ فقہاے متکلمین نے کلمۂ  طیبہ کو کلمۂ  خبیثہ کے ساتھ بدل دیا ہے، یعنی"لا إلٰہ إلا  اللّٰه "اور " لا إلٰہ غیر  اللّٰه "  کو "لا إلٰہ إلا غیر  اللّٰه "کے ساتھ بدل دیا ہے اور توحید کے راہِ مستقیم سے اپنا پاؤں ہٹا لیا ہے۔

دوسرا شخص اس کے اس قول کو محلِ نظر ٹھہراتا ہے کہ مذکورہ بالا معنی دقیق ترین مسائل میں سے ہے اور ایسا دقیق مسئلہ ہر اَن پڑھ اور دانش مند کی ابتدائی تعلیم نہیں بن سکتا، حالاں کہ کلمہ طیبہ کا حقیقی معنی ہر اَن پڑھ اور دانش مند کی ابتدائی تعلیم ہے۔ پس لا محالہ کلمہ طیبہ کا معنی وہ نہیں ہے جو ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ دوسرا شخص کہتا ہے کہ کلمہ طیبہ کی ترکیب ’’لا کاتب إلا زید‘‘ اور "لا خاتم النبیین إلا محمد" کی طرح ہے۔ جس طرح ان ہر دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ صفتِ کتابت زید میں منحصر ہے اور ختمِ نبوت کی صفت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں منحصر ہے، ان کے غیر میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے، اسی طرح "لا إلٰہ إلا  اللّٰه "کا معنی سمجھنا چاہیے۔ وہ اس طرح کہ الٰہ کا معنی معبود ہے، لہٰذا کلمہ طیبہ کا معنی یہ ہوا کہ "لا معبود إلا اللّٰہ’یعنی صفتِ معبودیت   الله تعالیٰ میں منحصر ہے، اس کے غیر میں یہ صفت نہیں۔ مشرکین کا اعتقاد یہ تھا کہ   الله تعالیٰ اور اس کی دوسری مخلوق صفتِ معبودیت میں مشترک ہیں، لہٰذا وہ   الله کے سوا دوسروں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ کلمہ طیبہ ان کے اس عقیدے کو رد کرنے کے لیے نازل ہوا۔  چنانچہ  "لا إلٰہ إلا  اللّٰه" کا معنی اس کے علاوہ نہیں ہے کہ  الله  تعالیٰ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں ہے۔ جس طرح "لا کاتب إلا زید"کا معنی ہے کہ زید ہی کاتب ہے۔

چنانچہ اہلِ اسلام علماے کرام کے حق میں یہ گمان کرنا کہ انھوں نے کلمۂ  طیبہ کو کلمۂ  خبیثہ کے ساتھ بدل دیا ہے اور وہ ایسا کر کے راہِ مستقیم سے ہٹ گئے ہیں، گمان کرنے والے کی نافہمی ہے اور اس کا ایمان تلف ہونے کا خدشہ ہے۔ واللّٰہ أعلم وعلمہ أتم و أحکم۔

اب یہ سوال ہے کہ پہلے شخص کا قول صحیح ہے یا دوسرے آدمی کی بات درست ہے؟ پہلے کا قول درست نہ ہونے کی صورت میں محلِ نظر ہونے کا سبب مطلوب ہے اور دوسرے کی بات صحیح ہے تو اس کی تصدیق و تصحیح درکار ہے]


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قول شخص آخر صحیح است، وقول شخص اول از صحت بمراحل دورست۔

[دوسرے شخص کی بات صحیح ہے، جب کہ پہلے آدمی کی بات صحت و صواب سے نہایت بعید ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:43

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ