سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(1) غیر اللہ کے لیے سجدہ بالاتفاق حرام ہے

  • 26143
  • تاریخ اشاعت : 2019-10-05
  • مشاہدات : 26

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غیرہ اللہ کےلیے سجدہ بالاتفاق حرام ہے ،جبکہ بعض حضرات سجدۂ تعظیمی اور سجدۂ عبادت میں فرق کرتےہیں۔ پہلے کو حرام اوردوسرے کوشرک قرار دیتےہیں، کیا یہ تفریق صحیح ہے ،نیز اس میں فاعل کی نیت اور عقیدے کا کوئی دخل ہے یا نہیں ، اگر شرک ہے تو کس درجے کا ؟ کیا تعظیمی سجدے کی طرح تعظیمی رکوع، تعظیمی قیام اور تعظیمی طواف بھی شرک ہے؟ کیایہ مظاہرہ عبودیت زندہ اور مردہ کے لیے یکساں حکم رکھتے ہیں یاان میں کوئی فرق ہے ؟ تکفیر و خارجیت کے فتنوں کومدنظر رکھتے ہوئے جواب دیں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

غیرہ اللہ کےلیے سجدہ بالاتفاق حرام ہے ،جبکہ بعض حضرات سجدۂ تعظیمی اور سجدۂ عبادت میں فرق کرتےہیں۔ پہلے کو حرام اوردوسرے کوشرک قرار دیتےہیں، کیا یہ تفریق صحیح ہے ،نیز اس میں فاعل کی نیت اور عقیدے کا کوئی دخل ہے یا نہیں ، اگر شرک ہے تو کس درجے کا ؟ کیا تعظیمی سجدے کی طرح تعظیمی رکوع، تعظیمی قیام اور تعظیمی طواف بھی شرک ہے؟ کیایہ مظاہرہ عبودیت زندہ اور مردہ کے لیے یکساں حکم رکھتے ہیں یاان میں کوئی فرق ہے ؟ تکفیر و خارجیت کے فتنوں کومدنظر رکھتے ہوئے جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔         [51/ الذرایات :56]

اللہ تعالیٰ کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ اس کے حضور انتہائی عاجزی ،لاچاری ،بےبسی اور انکساری کا اظہار کیا جائے۔ عبادت کےاظہار کے لیے قیام ،رکوع اور سجدے کو بطور ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ شرک اور عبادت دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے، اسی طرح اس کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بھی بند کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعظیم کے طور پر غیر اللہ کےلیے قیام ،رکوع اور سجدہ بھی حرام ہے ، جیسا کہ درج ذیل احادیث سےمعلوم ہوتا ہے : ’’جو شخص پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے لیے دست بستہ کھڑے ہوں، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘   [ابو داؤد ،الادب:5229]

رسول اللہ ﷺبیماری کی وجہ سے سہارا لے کر تشریف لائے تولوگ آپ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہو گئے آپ نے فرمایا : ’’تم عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو وہ اس انداز سے ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں ۔‘‘[مسند امام احمد ،ص:253ج:5]

مذکورہ احادیث میں قیام کی ممانعت بیان ہوئی ہے ۔ اسی طرح ایک آدمی نےآپ سے دریافت کیا کہ کیا ملاقات کے وقت مہمان کے سامنے جھکنا چاہیے؟ آپ نے سختی کے ساتھ اس سے منع فرمایا اور صرف مصافحہ کرنے کی اجازت دی ۔ [مسند  امام احمد،ص: 198 ج: 3]

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ کسی دوسرے کے سامنے معمولی سا جھکنا بھی شریعت کو ناگوار ہے ،چہ جائیکہ اس کے سامنے رکوع کیا جائے، غیر اللہ کے لیے سجدہ کرنا بھی سخت منع ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ اونٹ نے آپ کو سجدہ کیا تو مہاجرین و انصار کہنے لگے کہ آپ کو حیوانات اور حجر و شجر سجدہ کرتےہیں، اس بنا پر ہمارا زیادہحق ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ نے فرمایا: ’’ایسا کرنا جائز نہیں ہے ، تم اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کا اکرام کرو۔‘‘[مسند امام احمد، ص:76 ج: 6]

حضرت قیس بن سعد﷜ کہتے ہیں کہ میں حیرہ شہر گیا تو دیکھا کہ لوگ اپنے رہنماؤں کو سجدہ کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کیاجائے،آپ نے فرمایا:’’اگر میں تو میری قبر کے پاس سے گزرے تو کیا اسے سجدہ کرے گا؟ ‘‘عرض کیا ، نہیں، اس پر آپ نے فرمایا : ’’پھر مجھے سجدہ کرنا بھی جائز نہیں ہے۔‘‘[ابوداؤد ، النکاح: 2140]

حضرت معاذ بن جبل ﷜نے عملاً آپ کو سجدہ کیا، رسول اللہﷺ نے پوچھا:’’اے معاذ! یہ کیا ہے ؟‘‘ حضرت معاذ﷜ نے عرض کیا کہ میں ملک شام گیا تھا ، وہاں میں نے دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی رہنماؤں کوسجدہ کرتے ہیں ، اس بنا پر میرے دل نے چاہا کہ آپ کوسجدہ کروں، آپ نے فرمایا : ’’ایسا مت کرو اور اگر غیر اللہ کے لیے سجدہ روا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کی حق ادائیگی کے لیے اسے سجدہ کرے۔ ‘‘   [ابن ماجہ ، النکاح: 1853]

قیام، رکوع اور سجدہ اگرچہ عبادت نہیں بلکہ مظاہر عبادت ہیں ،تاہم ہماری شریعت میں غیر اللہ کے لیے انہیں ادا کرنا سخت منع کیا گیا ہے ، جیسا کہ سابقہ روایات سےمعلوم ہوتا ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیاجا سکتا ہے کہ پہلی امتوں کے لیے تعظیمی سجدہ جائز تھا، جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام  کو ان کے بھائیوں نے سجدہ کیا تھا قرآن پاک میں اس کی صراحت موجود ہے ۔   [12/ یوسف:100]

لیکن ہمیں جو دین عطا ہوا ہے وہ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے مکمل صورت میں ملا ہے ۔ اس میں عبادت اور مظاہر عبادت سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ۔ ابن تیمیہ ﷫ لکھتے ہیں:’’قیام، قعود ،رکوع اور سجدہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کا حق ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اورجو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہو، اس میں کسی غیر کاحق نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانے کو شرک قرار دیا گیا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ ’’ جس نے اللہ کےعلاوہ کسی مخلوق کی قسم اٹھائی اس نےشرک کیا ۔ ‘‘[فتاویٰ ابن تیمیہ ،ص:93 ج: 27]

امام اب تیمیہ ﷫مزید لکھتےہیں کہ ’’خشوع و خضوع اور عاجزی وانکساری اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کیونکہ یہ عبادت ہے جو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں ہوئی، البتہ سجدہ کرنا اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ایک حکم ہے جس کی بجا آوری ہم پر فرض ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ تعظیم کےطور پر کسی دوسرے کوسجدہ کرنا کا ہمیں حکم دیتے تو ہم پر اس حکم کی پیروی کرنا ضروری تھا، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کےحکم کی بجا آوری عبادت اور مسجود کی تعظیم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سجدہ کی دو اقسام ہیں :

ایک سجدہ عبادت: جو کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کےلیے جائز نہیں ہوا ۔

دوسرا سجدہ تعظیم: اس میں مسجود کی تعظیم ہوتی ہے ۔ ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے تعظیم کا یہ انداز اختیار کریں ، البتہ ہم سے پہلے لوگوں کے لیے ایسا کرنا جائز تھا ۔ ‘‘  [فتاویٰ ابن تیمیہ ، ص:360 ج :4]

تفصیل کے لیے فتاویٰ ابن تیمیہ ﷫ کے درج ذیل مقامات کا مطالعہ مفید رہے گا۔

(ص: 372 ج:1، ص: 501، 551، 553 ج:11، ص: 81، 92 ج: 27) واضح رہے کہ اس قسم کی فکری اور نظریاتی مباحث کے لیے بہت تفصیل درکار ہوتی ہے جو فتویٰ میں نہیں آ سکتی ، لہٰذا جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس میں سائل اپنے سوالات کے جواب تلاش کر سکتا ہے ۔ [واللہ اعلم ]

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:42

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ