سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(85) مقلد امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

  • 26141
  • تاریخ اشاعت : 2019-09-25
  • مشاہدات : 84

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صادق آباد سے بابو حیدر لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں مسجد میں امام مسجد حنفی مقلد ہے، کیا میں اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں یا میرے لیے گھر میں نماز پڑھن بہتر ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صادق آباد سے بابو حیدر لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں مسجد میں امام مسجد حنفی مقلد ہے، کیا میں اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں یا میرے لیے گھر میں نماز پڑھن بہتر ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہیں مقلدین حضرات کی چند اقسام ہیں ، بعض ایسے مقلدین ہیں جو شرک و بدعت کا ارتکاب کرتےہیں اور اس شرک و بدعت کو مشرف باسلام کرنے کے لیے پوری توانائیاں صرف کیے ہوئے ہیں ، اس قسم کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔بعض ایسے ہیں جو کھلے بندوں بدعات کا ارتکاب تو نہیں کرتے ، البتہ امامت کے وقت نماز کا جھٹکا کرنے کے عادی ہیں، رکوع و سجود اور قومہ اور جلسہ میں کوئی اعتدال نہیں ہوتا، حالانکہ ٹھہر ٹھہر کر نماز ادا کرنا نماز کا حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس انداز سے نماز پڑھنے والے کو اپنی نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس قسم کے امام کے پیچھے نماز تو ہو جاتی ہے لیکن اسے مستقل امام بنانا صحیح نہیں ہے، اگر امام مذکورہ بالا صفات یعنی شرک و بدعت کا مرتکب اور جلدی جلدی نماز پڑھنے کا عادی ہے تو اس کاحل یہ ہے کہ ایسی مسجد کا اہتمام کیا جائے جہاں قبول صفات امام کا تعین ممکن ہویا آس پاس کسی ایسی مسجد میں نماز پڑھنے کی کوشش کی جائے جہاں قبول صفت امام متعین ہو یا گھر میں باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کیا جائے ، گھر میں اکیلے نماز ادا کرنے سے جماعت کے ثواب سے محروم رہنا ہوگا۔ جسے ایک پختہ مسلمان گوارا نہیں کرسکتا۔ ہم لوگ اپنی دنیا سنوارنے میں بڑے ہوشیار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن دینی معاملات میں رخصتوں کو تلاش کرتے ہیں ، اپنی ذہنی آبشاری اور بچوں کی صحیح تعلیم کا صحیح بندوبست بھی ہوتا کہ ہمارے بچے شروع ہی سے اسلامی تعلیمات سے روشناس ہوں اور اسلامی فضا میں پروان چڑھیں، ہمیں اس بات کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:125

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ