سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(236) نماز میں بسم اللہ جہری پڑھنے کا حکم

  • 26138
  • تاریخ اشاعت : 2019-09-17
  • مشاہدات : 51

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بسم اللہ جہری پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بسم اللہ جہری پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

راجح بات یہ ہے کہ بسم اللہ جہری نہیں پڑھنی چاہیے۔ سنت یہ ہے کہ اسے سراً پڑھا جائے کیونکہ یہ سورۃ الفاتحہ کی آیت نہیں ہے، ([1]) اگر کبھی کبھی اسے جہری پڑھ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ بعض اہل علم نے کہا ہے کبھی کبھی ضرور جہری پڑھنی چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ اسے جہراً پڑھتے تھے۔ لیکن جو بات صحیح سند کے ساتھ آپ سے ثابت ہے وہ یہ کہ آپ اسے جہراً نہیں پڑھتے تھے، لہذا زیادہ بہتر یہی ہے کہ اسے جہراً نہ پڑھا جائے۔ اگر ان لوگوں کی تالیف قلب کے لیے جہراً پڑھ لے جن کا مذہب اسے جہراً پڑھنے کا ہے تو امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔


[1] بسم اللہ، سورۃ الفاتحہ کی آیت ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ راجح بات اس کا سورۃ الفاتحہ کی آیت ہونا معلوم ہوتا ہے (دیکھیے 'الصحیحۃ' حدیث: 1183) تاہم اس سے اس کا جہراً پڑھنا ضروری ثابت نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ہے کہ آپ نے اسے جہراً پڑھا ہے یا سراً؟ زیادہ روایات سری پڑھنے کی ہیں، اس لیے سراً پڑھنا ہی راجح ہو گا۔ (ص،ی)

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ272

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ