سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(196) دو نمازوں کو جمع کرتے وقت ہر نماز کے لیے اقامت کہے

  • 26136
  • تاریخ اشاعت : 2019-09-12
  • مشاہدات : 53

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب انسان نماز ظہر اور عصر کو جمع کرکے ادا کرے تو کیا وہ ہر نماز کے لیے اقامت کہے گا؟ کیا نوافل کے لیے بھی اقامت کہے گا؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب انسان نماز ظہر اور عصر کو جمع کرکے ادا کرے تو کیا وہ ہر نماز کے لیے اقامت کہے گا؟ کیا نوافل کے لیے بھی اقامت کہے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ہرنماز کے لیے اقامت ہے جیسا کہ نبیﷺ کے حج کی کیفیت کے بارے میں حضرت جابر﷜ کی حدیث ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں آپ کی نمازوں کو جمع کرکے ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا:

جمَعَ النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بين المغرِبِ والعِشاءِ بجَمْعٍ كلَّ واحدةٍ منهما بإقامةٍ، ولم يُسَبِّحْ بينهما. (صحيح البخارى، الحج، باب من جمع بينهما ولم يتطوع ، ح: 1673 وصحيح مسلم ، باب الإضافة من عرفات، ح: 1285، 281)

’’نبی ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا فرمائیں ، ان میں سے ہر نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور دونوں کے درمیان آپ نے نوافل ادا نہیں فرمائے‘‘

نوافل کے لیے اقامت نہیں ہے۔

وباللہ التوفیق

 

فتاویٰ ارکان اسلام

نمازکےمسائل:صفحہ247

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ