سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(72) جادو کیا ہے اور اسے سیکھنا کیسا ہے؟

  • 26132
  • تاریخ اشاعت : 2019-08-22
  • مشاہدات : 71

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جادو کیا ہے اور اسے سیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جادو کیا ہے اور اسے سیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء نے لکھا ہے کہ لغت میں جادو ہر اس چیز سے عبارت ہے ، جس کا سبب لطیف اور خفی ہو اور اس کی تاثیر بھی خفی ہو اور لوگوں کو اس کے بارے میں اطلاع نہ ہو۔ اس معنی کے اعتبار سے سحر کا لفظ نجوم اور کہانت پر بھی مشتمل ہے بلکہ یہ بیان اور فصاحت کی تاثیر کو بھی شامل ہے، جیسا کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا»(صحيح البخارى، النكاح ، باب الخطبة، ح : 5136)

’’بعض بیان سحر کی سی تاثیر لیے ہوتے ہیں‘‘

پس ہر وہ چیزجو بطریق خفی مؤثر ہو وہ جادو ہے۔

اصلاحی طور پر بعض لوگوں نے اس کی تعریف اس طرح کی ہے :’’ اس سے مراد وہ تعویزات ، دم اورجھاڑ پھونک ہیں جو دلوں، عقلوں اور جسموں پر اثر انداز ہوں، عقلوں کو سلب کریں ، محبت اور نفرت پیدا کریں ، شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ، جسمانی طور پر بیمار کر دیں اور سوچ بچار کو سلب کردیں۔

جادو کا سیکھنا حرام ہے۔ بلکہ کفر ہے جب کہ اس میں شیاطین کے اشتراک کے وسیلے کو بھی اختیار کر لیا کیا ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَاتَّبَعوا ما تَتلُوا الشَّيـطينُ عَلى مُلكِ سُلَيمـنَ وَما كَفَرَ سُلَيمـنُ وَلـكِنَّ الشَّيـطينَ كَفَروا يُعَلِّمونَ النّاسَ السِّحرَ وَما أُنزِلَ عَلَى المَلَكَينِ بِبابِلَ هـروتَ وَمـروتَ وَما يُعَلِّمانِ مِن أَحَدٍ حَتّى يَقولا إِنَّما نَحنُ فِتنَةٌ فَلا تَكفُر فَيَتَعَلَّمونَ مِنهُما ما يُفَرِّقونَ بِهِ بَينَ المَرءِ وَزَوجِهِ وَما هُم بِضارّينَ بِهِ مِن أَحَدٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمونَ ما يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَلَقَد عَلِموا لَمَنِ اشتَرىهُ ما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن خَلـقٍ وَلَبِئسَ ما شَرَوا بِهِ أَنفُسَهُم لَو كانوا يَعلَمونَ ﴿١٠٢﴾... سورة البقرة

’’اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ "دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو" پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا!‘‘

اس قسم کے جادو کو سیکھنا جس میں شیاطین کے اشتراک کےواسطہ کو اختیار کیا گیا ہوکفر اور اس کے استعمال کفر، ظلم اور لوگوں سے دشمنی ہے، اسی لیے حکم شریعت یہ ہے کہ جادوگر کو اتداد کی بنا پریا حد کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ اگر اس کے جادو کی نوعیت اسی ہو جو موجب کفر ہو تو اسے اتداد و کفر کی بنا پر قتل کر دیا جائے گا اور اس کا جادو درجہ کفر تک نہ پہنچتا ہو تو اس کے شر کو دور کرنے اور مسلمانوں کو اس کی ایذا سے بچانے کے لیے اسے حد کے طور پر قتل کیا جائے گا۔

والله اعلم بالصواب

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائدکےمسائل:صفحہ145

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ