سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(7) تلاوتِ قرآن مجید میں شارع کی جانب سے کوئی حد مقرر ہے؟

  • 26100
  • تاریخ اشاعت : 2018-05-01
  • مشاہدات : 166

سوال

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا  فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قراءت وتلاوت قرآن مجید میں شارع کی جانب سے کوئی حد مقرر ہے یا قاری کی قوت شوق پر موقوف ہے جیساکہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  وابن حجر وغیرہما شراح محدثین رحمہم اللہ لکھتے ہیں۔اگر کوئی حد مقرر ہے جیسا کہ عمرو بن العاص   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت سے جوصحاح وسنن میں علی اختلاف الروات اعلی مدت ایک ماہ واقل مدت تین روز بعض محدثین نے سمجھا ہے تو بنا بریں کوئی کم وبیش میں اس سے ختم کرے تو وہ حد شارع سے تجاوز کرنے والا ہے یا نہیں اورجو حدشارع سے تجاوز کرے وہ عند الشارع مذموم اور بدعت وناجائز ہوگایا نہیں زید کہتا ہے کہ اس میں حد ومدت مقرر نہیں ہے۔اور عمروبن العاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طاقت بموجب وہ تعلیم تھی اس کے بعض طرق میں صرف تین روز سے کم کے پڑھنے میں عدم فہم کی تصریح ہے نہ عدم جواز تلاوت کی کیونکہ مہم معانی کے ساتھ قراءت مشروط نہیں ورنہ یہ تعلیم ناظرہ خوانی وحفاظ کی ناجائز ٹھہرے گی علاوہ بریں ایک جماعت اکابرین صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  جن میں بعض خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  مثل حضرت عثمان وعلی وعبداللہ بن زبیر بھی ہیں وایک جماعت ،تابعین  رحمۃ اللہ علیہ ،وتبع تابعین رضی اللہ عنہم سے ایک ایک دن میں متعدد ختم کی روایات صحیحہ قیام اللیل محمد بن نصر مروزی وطحاوی واسد الغابہ واصابہ فی تمیز الصحابہ وغیرہا میں مذکور ہیں پھر جو امر سلف صالحین سے باتفاق کثرہ ثابت ہو وہ بدعت وناجائز کیسے ہوگا امید کہ جواب مختصر محقق سے سرفراز فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔والسلام


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح ہو کہ حدیث شریف سے تعیین وتحدید تلاوت قرآن مجید کی معلوم نہیں ہوتی اور آنحضرت کا فرمانا عمرو بن العاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو تین دن سے کم میں نہیں پڑھواسکے دو وجہ تھیں۔ولا تقدیر سہ یوم کی ان کی قوت وطاقت کے حسب حال تھی یعنی آپ نے ان میں اسی قدر طاقت لسانی وقوت جسمانی معلوم فرمائی تھی کہ تین روز میں بلاتعب وصعب تمام کرلیں گے۔اس لیے آپ نے ان کو تین ہی دن میں قرآن مجید تمام کرنے کاحکم فرمایا تھا۔ثانیاًآپ اس عمل کو بہت پسند فرماتے تھے کہ جس پر مداومت ہوسکے اور اس قدر مداومت کرنا عمرو بن العاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا ممکن جانتے تھے لہذا تین دن کی اجازت دی پس یہ حدیث تعین پر نہیں دلالت کرتی تو جولوگ ایک دن یا کم وبیش میں مع حفظ رعائیت ترتیل نہ جیسا کہ فی زماننا مروج ہے کہ سوائے یعلمون تعلمون کے دوسرے الفاظ معلوم نہ ہوں ختم کریں۔حدشارع سے نہیں متجاوز ہوں گے۔لیکن تین روز میں ختم کرنا ادلے وافضل ہے۔

(سید محمد نذیر حسین۔21شوال سن 1318 ہجری)(سید محمد نذیر حسین)

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاوی نذیریہ

جلد:2،کتاب الاذکار والدعوات والقراءۃ:صفحہ:10

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ