سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(951) گھروں میں جانور اور پرندے پالنے کا حکم

  • 26066
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-30
  • مشاہدات : 45

سوال

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا گھروں میں طوطا پالناجائز ہے؟ جب کہ حلت کے بارے میں قرآن و سنت میں واضح الفاظ نہیں ملتے؟ (ابوطلحہ گوالہ کالونی لاہور) (۱۶جولائی ۱۹۹۹ئ)

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا گھروں میں طوطا پالناجائز ہے؟ جب کہ حلت کے بارے میں قرآن و سنت میں واضح الفاظ نہیں ملتے؟ (ابوطلحہ گوالہ کالونی لاہور) (۱۶جولائی ۱۹۹۹ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جانور یا پرندے کے پنجرے وغیرہ میں رکھنے کا جواز ہے۔ بشرطیکہ اس کی خوراک کا انتظام ہو۔ چاہے وہ ماکول اللحم( جس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے۔ یا غیر ماکول اللحم صحیح حدیث میں ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو بلی کے سبب آگ کا عذاب دیا گیا۔ اس نے اس کو روکے رکھا۔ کھانے پینے کو کچھ نہ دیا۔ اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا سکے۔ صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق،بَابُ فَضْلِ سَقْیِ المَاء ِ،رقم:۲۳۶۵

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلی کو بند رکھنے کی صورت میں اگر وہ عورت کھانے پینے کو دیتی تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتی۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،متفرقات:صفحہ:655

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ