سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(933) قربِ قیامت کی علامات، حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ، ظہورِ مہدی کے بعد ہو گا؟

  • 26048
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-30
  • مشاہدات : 312

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الاعتصام کے ۱۵ ستمبر کے شمارے میں ایک مضمون ’’پندرہ خصلتیں‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا۔ اس کے حوالہ سے عرض ہے کہ یہ پندرہ کی پندرہ خصلتیں آج پوری امت میں موجود ہیں اور کچھ لوگ ان کو قربِ قیامت کی علامات بیان کرتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے۔ دوسرے بریلوی حضرات چودھویں صدی کا بہت ذکر کرتے ہیں جو کہ اب گزر چکی بلکہ اگلی صدی کے دس سال بھی گزر گئے ہیں۔ اس کے بارے میں قرآن اور حدیث کا کیا فرمان ہے۔ دونوں باتوں کے بارے میں تفصیلاً الاعتصام میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ (ساجد حفیظ، لاہور) (۸ جون ۱۹۹۰ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربِ قیامت کی بہت ساری علامات ہیں، جن کا تذکرہ متعدد احادیث میں موجود ہے ۔ ان میں سے بہت سی روایات کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ  نے ’’النھایۃ‘‘ میں جمع کردیا ہے۔ کتاب ہذا پہلی دفعہ ۱۳۸۸ھ میں ریاض (سعودی عرب) سے دو جلدوں میں شائع ہو کر منظرعام پر آچکی ہے۔ تصنیف لطیف بے حد مفید اور لائق مطالعہ ہے۔

بنا بریں محولہ بالا ’’پندرہ خصلتیں‘‘بھی قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اسی روایت کے آخر میں ہے۔ پھر یکے بعد دیگر بلا وقفہ علامات کا ظہور ہو گا۔ جس طرح تسبیح کا جواہر دھاگہ اور لڑی ٹوٹنے سے پے در پے دانے بکھر جاتے ہیں۔ صاحب ِ مشکوٰۃ نے بھی اس روایت کو ’’اشراط الساعۃ‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو غزنوی ترجمہ مشکوٰۃ،ج:۴،ص:۱۰۱)

بعض آثار میں وارد ہے کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے اور نبی کریمﷺ کی بعثت چھ ہزار سال کے دوران ہے۔ مفسر سلیمان الجمل فرماتے ہیں، آثار سے پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ کی امت کی مدت ہزار سال سے متجاوز ہے۔ لیکن یہ زیادتی پانچ سو سال کو نہیں پہنچ سکے گی۔ موضوع ہذا پر علامہ سیوطی کی ایک تصنیف بنام الکشف عن مجاوزۃ ھذہ الامۃ الالف موجود ہے۔ (الفتوحات الالٰہیہ،ج:۴،ص:۴۱۳، طبع مصر)

انہی آثار پر اعتماد کرتے ہوئے بعض حضرات نے چودھویں صدی ہجری کی اہمیت اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ تحدید کے بارے میں وارد آثار و اقوال لائق اعتنا و استناد اور قابلِ تسلی نہیں۔ قرآنی فیصلہ حتمی و یقینی ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَسـَٔلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُرسىٰها قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ رَبّى لا يُجَلّيها لِوَقتِها إِلّا هُوَ...﴿١٨٧﴾... سورة الأعراف

’’یعنی( یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردے گا۔‘‘

اور حدیث جبریل میں ہے آپ نے قیامت کے بارے میں سائل کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

’ مَا الْمَسئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمُ مِنَ السَّائِلِ ‘

’’مسئول عنہ کو بھی سائل سے زیادہ علم نہیں۔‘‘

     ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،متفرقات:صفحہ:642

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ