سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(926) ممنوحہ (عطا کردہ) جنگلات میں تبدیلی کا مطالبہ صحیح نہیں

  • 26041
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-30
  • مشاہدات : 45

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
علاقہ کوہستان کے جنگلات خوڑگئی و مرجونہ واقع رقبہ پالس تحصیل ٹین میں آج سے کچھ عرصہ قبل مندرجہ ذیل چار قبائل کے حصے میں آٹھواں حصہ تقسیم کیا گیا اور باقی سات حصے دوسری قوموں کو دیے گئے تھے۔
۱۔         کمال خیل
۲۔        چوتھا خیل                                    فرائے خیل بھٹکہ
۳۔        اسحاق خیل
۴۔        فقیر خیل
مذکورہ بالا چار قبائل کو حصہ بحصہ برابر دیاگیا۔ اس پر خرچ بھی برابر کرتے رہے اور آمدن بھی برابر لیتے رہے۔ اور یہ سلسلہ آباؤ اجدادسے جاری رہا۔ اب ان قبائل میں بعض کے افراد بڑھ چکے اور بعض کے کم ہیں۔ زیادہ افراد والے مطالبہ کرتے ہیں کہ اب ہمیں افراد کی تعداد کے مطابق حصہ دیا جائے جب کہ دوسرے فریق سابق تقسیم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ اب یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ (سائل سرفراز کوہستانی) (۳ستمبر۱۹۹۳ئ)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علاقہ کوہستان کے جنگلات خوڑگئی و مرجونہ واقع رقبہ پالس تحصیل ٹین میں آج سے کچھ عرصہ قبل مندرجہ ذیل چار قبائل کے حصے میں آٹھواں حصہ تقسیم کیا گیا اور باقی سات حصے دوسری قوموں کو دیے گئے تھے۔

۱۔         کمال خیل

۲۔        چوتھا خیل                                    فرائے خیل بھٹکہ

۳۔        اسحاق خیل

۴۔        فقیر خیل

مذکورہ بالا چار قبائل کو حصہ بحصہ برابر دیاگیا۔ اس پر خرچ بھی برابر کرتے رہے اور آمدن بھی برابر لیتے رہے۔ اور یہ سلسلہ آباؤ اجدادسے جاری رہا۔ اب ان قبائل میں بعض کے افراد بڑھ چکے اور بعض کے کم ہیں۔ زیادہ افراد والے مطالبہ کرتے ہیں کہ اب ہمیں افراد کی تعداد کے مطابق حصہ دیا جائے جب کہ دوسرے فریق سابق تقسیم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ اب یہ مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ (سائل سرفراز کوہستانی) (۳ستمبر۱۹۹۳ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علاقہ کوہستان کے جنگلات کا آٹھواں حصہ جو مذکورہ چار قبائل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عطیہ حکومت یا جرگہ وغیرہ کی طرف سے ملا ہوگا بھتہ مساوی جب ان میں تقسیم کردیا گیا تو ہر ایک کے قبضہ میں جو کچھ آیا، شرعی طور پر وہ اس کا مستقل مالک ہے ۔ اب ہر ایک کا دوسرے پر حق دعویٰ وجہ چاہے کوئی بھی ہو فضول اور ناقابلِ التفات ہے۔

لہٰذا مدعیان کو چاہیے کہ اپنا دعویٰ واپس لے کر اولاد کے لیے حصولِ رزق حلال کی نئی راہیں تلاش کریں۔ رب العزت کا قرآن کریم میں وعدہ ہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَجًا ﴿٢ وَيَرزُقهُ مِن حَيثُ لا يَحتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسبُهُ إِنَّ اللَّهَ بـٰلِغُ أَمرِهِ قَد جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىءٍ قَدرًا ﴿٣﴾... سورة الطلاق

’’اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے (رنج و محن) مخلصی( کی صورت) پیدا کردے گا۔ اور اس کو ایسی جگہ سے رز دے گا جہاں سے(وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو اللہ پر بھروسہ رکھے گا۔ تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ اللہ اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کررکھا ہے۔ ‘‘

یہ بھی یاد رہے اگر ان جنگلات کی حیثیت مستقل ملک کی نہ ہو بلکہ مجرد انتفاع کی خاطر ان کے حوالے کیے گئے ہوں تواندریں صورت محوّلہ ذریعہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے وہ جیسے مناسب سمجھے ان میں تصرف کر سکتا ہے۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،متفرقات:صفحہ:633

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ