سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(757) ٹیک لگا کر تلاوتِ قرآن مجید کا حکم

  • 25872
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-25
  • مشاہدات : 199

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا قرآنِ مجید کی تلاوت ٹیک لگا کر یا تکیہ رکھ کر کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ بوجہ تھکاوٹ سستی کے؟ (ایک سائل از منڈڑیاں تحصیل ایبٹ آباد) (۱۲۱ اپریل ۱۹۹۶ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ٹیک وغیرہ لگا کر قرآنِ مجید کی تلاوت کا کوئی حرج نہیں ، جائز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کا بیان ہے:

’کَانَ یَتَّکِیُٔ فِی حَجْرِی وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ یَقْرَأُ القُرْآنَ۔‘ (صحیح البخاری،بَابُ قِرَاءَةِ الرَّجُلِ فِی حَجْرِ امْرَأَتِهِ وَهِیَ حَائِضٌ،رقم: ۲۹۷)

’’یعنی نبیﷺ میری گود میں ٹیک لگاتے اور میں حیض والی ہوتی پھر آپﷺ قرآن کی تلاوت فرماتے۔‘‘

     ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،تلاوةِ قرآن:صفحہ:534

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ