سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(737) اویس قرنی رحمہ اللہ کون تھا؟ کیا تھا؟

  • 25852
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-25
  • مشاہدات : 158

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اویس قرنی رحمہ اللہ  کون تھا؟ کیا تھا؟ 

۱۔ کیا اس کو رضی اللہ عنہ  کہنا جائز ہے؟

۲۔ کیا اویس قرنی کی قبر بہاولپور میں ہے؟ (سائل: حاجی مشتاق احمد محمدی چک … بہاولپور) (۱۲ دسمبر ۱۹۹۷ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اویس قرنی یمن میں اﷲ کا ایک نیک بندہ تھا۔ رسول اﷲﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو نشانیوں کے ساتھ اس کی آمد کی بشارت دی تھی۔ نیز فرمایا:

’ فَمُرُوهُ فَلْیَسْتَغْفِرْ لَکُمْ‘(صحیح مسلم،بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُوَیْسٍ الْقَرَنِیِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ،رقم:۲۵۴۲)

’’یعنی اسے کہنا کہ تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے۔‘‘

رسول اﷲﷺ نے اس کو خیر التابعین کے لقب سے بھی یاد فرمایا ہے۔

۱۔ عام طور پر لفظ رضی اللہ عنہم  صحابہ پر بولا جاتا ہے۔ دیگر پر رحمہ اللہ  اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن بعض لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم  کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی وسعت کے اعتبار سے رضی اللہ عنہ  کا اطلاق کر دیتے ہیں جو محل نظر ہے۔

۲۔        مذکوررہ بالا اوصاف سے متصف اویس قرنی کی قبر تاریخی طور پر بہاولپور میں ثابت نہیں ہو سکی۔ ممکن ہے موجود صاحبِ قرآن کا ہم نام کوئی اور ہو۔

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب اللباس:صفحہ:522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ