سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(716) معانقہ کی شرعی حیثیت اور کتنی بار؟

  • 25831
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-25
  • مشاہدات : 126

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 جب معانقہ کیا جاتا ہے تو بعض لوگ پہلے ہاتھ ملاتے ہیں۔ پھر تین مرتبہ گلے ملتے ہیں مثلاً پہلے دائیں طرف سے گلے لگایا پھر بائیں طرف سے اور پھر تیسری مرتبہ دائیں طرف سے، اس طرح تین دفعہ گلے ملتے ہیں۔ گلے ملنے سے پہلے بھی ہاتھ ملاتے ہیں اور گلے ملنے کے بعد بھی یوں دو دفعہ ہاتھ ملانا اور تین دفعہ گلے ملنا کیا درست طریقہ ہے؟ سنت سے کیا ثابت ہے؟ (وقار علی۔ لاہور) ( ۱۸ اپریل ۱۹۹۷ئ)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 جب معانقہ کیا جاتا ہے تو بعض لوگ پہلے ہاتھ ملاتے ہیں۔ پھر تین مرتبہ گلے ملتے ہیں مثلاً پہلے دائیں طرف سے گلے لگایا پھر بائیں طرف سے اور پھر تیسری مرتبہ دائیں طرف سے، اس طرح تین دفعہ گلے ملتے ہیں۔ گلے ملنے سے پہلے بھی ہاتھ ملاتے ہیں اور گلے ملنے کے بعد بھی یوں دو دفعہ ہاتھ ملانا اور تین دفعہ گلے ملنا کیا درست طریقہ ہے؟ سنت سے کیا ثابت ہے؟ (وقار علی۔ لاہور) ( ۱۸ اپریل ۱۹۹۷ئ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معانقہ کا مفہوم عربی زبان میں صرف یہ ہے کہ ’جَعَلَ یَدَیْهِ عَلٰی عُنِقِهٖ وَ ضَمَّهُ اِلٰی صَدْرِهٖ۔‘ (المنجمد)  اپنے دونوں ہاتھوں کو دوسرے کی گردن پر کر کے اسے سینہ سے ملا لینا تعدّد یا تکرار کی ضرورت نہیں۔ اس بارے میں ’’مسند احمد‘‘ اور ابو داؤد میں روایت موجود ہے لیکن سنداً متکلم فیہ ہے۔ اسی طرح طبرانی اوسط میں حصرت انس رضی اللہ عنہ  کی روایت میں معانقہ سفر سے آمد کے ساتھ مقید ہے۔

’ وَ اِذَا قَدِّمُوْا مِنْ سَفَرٍ تَعَانَقُوْا  ۔‘

ترمذی کی روایت میں ہے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ  کی مدینہ آمد پر آپﷺ نے اس سے معانقہ اور تقبیل (بوسہ) سے اظہارِ محبت فرمایا تھا۔ سنن الترمذی،بَابُ مَا جَاء َ فِی الْمُعَانَقَةِ وَالقُبْلَةِ،رقم:۲۷۳۲

روایت ہذا کو امام ترمذی نے حسن قرار دیا ہے۔ ابو الہیثم بن التیان کی روایت میں بھی معانقہ اور تقبیل کی تصریح ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔

ائمہ میں سے مالک رحمہ اللہ  نے فعلِ معانقہ ویسے ہی مکروہ سمجھا ہے جب کہ سفیان بن عینیہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ مزیدار تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباری: ۱۱/ ۵۹۔ ۶۰۔

     ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب اللباس:صفحہ:508

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ