سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(297) جذامی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟

  • 2577
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-23
  • مشاہدات : 948

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 جذامی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ جذامی نماز میں شامل ہو سکتا ہے اور اس کو مسجد میں آنے سے روکا جا سکتا ہے یا نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جذام جسمانی بیماری ہے۔ شرعی عیب نہیں اس لیے اس کی امامت بھی صحیح ہے جماعت میں شرکت کر سکتا ہے۔ جبراً مسجد میں نہیں نکالا جائے گا۔ ہاں اگر کسی شخص کو اس سے طبعی نفرت ہو! تو بحکم:((فر من المجذوم فرارک من الاسد))
’’مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘ ساتھ ملانے سے پرہیز کرے تو گناہ نہیں۔ (۱۵/۸ رمضان ۳۵ھ، فتاویٰ ثنائیہ جلد ۱ ص ۲۶۵)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ