سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(513) اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد عیب دار ہو جائے تو؟
  • 25628
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 839

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب ہو جائے تو کیا عیب والے کی قربانی کرے یا دوسرا جانور لے کر قربانی کرے؟ جس قربانی کے جانور میں عیب ہو گیا وہ اﷲ کے نام کیا ہوا تھا۔ اب وہ جانور مسجد، مدرسہ یا کسی غریب کو دینا چاہیے یا مالک اپنے لیے رکھ لے؟ (محمد قاسم اﷲ ڈنوں سموں گوٹھ حاجی محمد سموں کنری سندھ) ( ۱۱۔ اپریل ۱۹۹۷ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسئلہ ہذا میں اہل علم کا اگرچہ اختلاف ہے لیکن اس میں محقق مسلک یہ ہے کہ قربانی کے دن سے پہلے اگر کوئی ایسا عیب ہو جائے جو قربانی سے مانع ہو تو ایسی صورت میں جانور بدل لینا چاہیے اور معیوب جانور کو صدقہ کرنا چاہیے۔ صورت چاہے جونسی ہو اور اگر اس کو فروخت کرکے قیمت قربانی کے لیے دوسرے خرید شدہ جانور میں ڈال لی جائے تو یہ بھی جائز ہے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاویٰ اہل حدیث:۵۳۰/۲۔ لشیخنا محدث روپڑی رحمہ اللہ تعالیٰ)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الصوم:صفحہ:406

محدث فتویٰ

تبصرے