السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی کی نماز ظہر رہ گئی ہے۔ جب وہ مسجد میں جاتا ہے تو وہاں عصر کی نماز ہونے والی ہے اب کیا کرے۔ آیا ظہر کی نماز جماعت کے پاس الگ پڑھے یا عصر میں مل جائے۔ اور ظہر بعد میں پڑھ لے۔
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وہ ظہر کی نیت کرکے جماعت میں شامل ہو جائے اور بعد میں عصر کی نماز الگ پڑھ لے یہی صورت بہتر ہے۔
یہ فتویٰ صحیح نہیں مولانا عبد الجبار عمر پوری کا فتویٰ جو پہلے گذر چکا ہے وہ صحیح ہے اور حدیث کے مطابق ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۶ شمارہ نمبر ۱۱)
(حررہ علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال)