سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(458) طوافِ زیارت اور طوافِ الوداع کا حکم

  • 25573
  • تاریخ اشاعت : 2018-04-07
  • مشاہدات : 109

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا طوافِ زیارت کے ساتھ ہی طواف الوداع کیا جا سکتا ہے۔ طواف الوداع کی کتنی مدت ہے۔ کیا ایک دفعہ میقات سے گزرنے کے بعد دوبارہ آکر طواف الوداع کیا جا سکتا ہے۔ یا پھر ہر صورت میں طواف الوداع کرکے طائف جانا چاہیے۔(یہ میقات قرن المنازل سے باہر ہے) (سائل ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی، طائف، سعودی عرب)(۱۲ جون ۲۰۰۹ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 طوافِ زیارت اگر تاخیر سے ہو تو دونوں اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ طوافِ الوداع کے بعد مکہ سے کوچ کرجائے۔ ہاں البتہ اگر نماز کا وقت ہو تو نماز پڑھ کر سفر کر جائے ۔ اتنی تاخیر کا کوئی حرج نہیں۔ بلاوجہ زیادہ رُکنا نہیں چاہیے۔ ہاں واپس دوبارہ آکر طوافِ الوداع ہو سکتا ہے اور اگر واپس نہ آئے تو فدیہ دے۔ (فتح الباری،ج:۳،ص:۵۸۵)

تاہم کوشش ہونی چاہیے کہ طوافِ الوداع کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہو۔ برادرِ محترم ڈاکٹر صاحب کی خواہش کے مطابق سولہ سوالوں کے جوابات بالاختصار عرض کردیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمیع اعمال میں خلوص بخشے۔آمین

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الصوم:صفحہ:355

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ