سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(277) غیر شرعی کاروبار کے لیے دکان کرائے پر دینا

  • 2557
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-20
  • مشاہدات : 628

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کوئی شخص اپنی دکان کسی ایسے آدمی کو کرائے پر دے جو حرام کاروبار کرتا ہو ،مثلاً فلموں ،گانوں کی سی ڈیوں اورکیسٹوں کی دکان کھولے،یا کوئی نشہ آور چیز فروخت کرے،یا کوئی اور غیر شرعی کام کرتا ہو تو کیا یہ کرایہ اس کا حرام کمائی میں شمار ہو گا ۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی شخص اپنی دکان کسی ایسے آدمی کو کرائے پر دے جو حرام کاروبار کرتا ہو ،مثلاً فلموں ،گانوں کی سی ڈیوں اورکیسٹوں کی دکان کھولے،یا کوئی نشہ آور چیز فروخت کرے،یا کوئی اور غیر شرعی کام کرتا ہو تو کیا یہ کرایہ اس کا حرام کمائی میں شمار ہو گا ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی غلط کام کرنے والے شخص کو دکان کرائے پر دینا حرام عمل ہے کیونکہ اس طرح اس کے فسق و فجور میں اس کی معاونت ہوتی ہے ،اور گناہ کے کاموں میں معاونت کرنے کا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا کہ گناہ کرنے کا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔:

’’ وتعاونوا علي البر والتقوي ولا تعاونوا علي الاثم والعدوان‘‘ (الماءدة:2)

’ اور نیکی و تقوی پر تم ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ و زیادتی پر کسی کا تعاون مت کرو۔‘

مذکورہ آیت مبارکہ کی روشنی میں ایسے شخص کو دکان کرائے پر دینا ناجائز اور حرام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ