سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(264) وٹہ سٹہ کی شادی

  • 2544
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-19
  • مشاہدات : 1007

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا وٹہ سٹہ کی شادی جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے وٹہ سٹہ کی شادی کو نا جائز اور حرام قرار دیا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

’’ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغار ‘‘  (رواه البخاري:5112، مسلم: 1415)

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كے نكاح سے منع فرمايا "

نکاح شغار یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ کے نکاح کے ساتھ دوسرے شخص کی بیٹی ،بہن یا کسی بھی عورت سے نکاح کی شرط لگائے،خواہ حق مہر مقرر ہو یا نہ ہو۔

اور " المدونۃ " ميں درج ہے:

" يہ بتائيں كہ اگر كسى نے كہا: اپنى بيٹى كى ميرے ساتھ ايک سو دينار ميں شادى كر دو، اس شرط پر كہ ميں اپنى بيٹى كى تيرے ساتھ سو دينار ميں شادى كر دونگا ؟تو امام مالک رحمہ اللہ نے اس كو ناپسند اور مكروہ جانا، اور اسے نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كا ايک طريقہ خيال كيا " انتہىٰ (ديكھيں: المدونۃ ( 2 / 98 )

اور اس كى دليل ابو داؤد وغيرہ كى درج ذيل حديث بھى ہے جو عبد الرحمن بن ھرمز سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

عباس بن عبد اللہ بن عباس سے عبد الرحمن بن حكم نے اپنى بيٹى كى شادى كى، اور انہوں نے عبد الرحمن بن حكم سے اپنى بيٹى كى شادى كر دى، اور دونوں نے مہر بھى ركھا، تو معاويہ بن ابى سفيان رضى اللہ تعالى عنہما نے مروان بن حكم كو خط لكھا جس ميں انہوں نے ان دونوں كے درميان عليحدگى اور جدائى كا حكم ديا، اور اپنے خط ميں لكھا:

يہ وہ شغار يعنى وٹہ سٹہ ہے جس سے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے منع فرمايا تھا " (سنن ابو داود حديث نمبر ( 2075 )

اور بعض اہل علم نے نكاح شغار كو فاسد نكاح شمار كيا ہے اس كا جارى ركھنا جائز نہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" إذا زوَّج الرجل موليته لرجل على أن يزوجه الآخر موليته : فهذا هو نكاح الشغار الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم ، وهذا هو الذي يسميه بعض الناس نكاح " البدل " ، وهو نكاح فاسد ، سواء سمِّي فيه مهر أم لا ، وسواء حصل التراضي أم لا. أما إن خطب هذا مولية هذا ، وخطب الآخر موليته من دون مشارطة وتم النكاح بينهما برضى المرأتين مع وجود بقية شروط النكاح : فلا خلاف في ذلك ، ولا يكون حينئذ من نكاح الشغار " انتهىٰ ( فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 427 )

" جب كوئى شخص اپنى ولايت ميں كسى عورت كى شادى كسى دوسرے شخص سے اس بنا پر كرے كہ وہ اپنى ولايت ميں موجود عورت كا نكاح اس شخص سے كريگا تو يہ نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كا نكاح ہے جس سےنبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے منع فرمايا ہے، اور اسے بعض لوگ نكاح بدل كا نام بھى ديتے ہيں، اور يہ نكاح فاسد ہے، چاہے اس ميں مہر مقرر ہو يا نہ مقرر كيا جائے، اور چاہے اس ميں رضامندى حاصل ہو يا نہ حاصل ہو ‘‘ 

ليكن اگر اس شخص نے دوسرے شخص كى ولايت ميں موجود عورت كو نكاح كا پيغام ديا اور اس دوسرے شخص نے پہلے كى ولايت ميں موجود عورت كونكاح كا پيغام بغير كسى شرط كے ديا اور دونوں عورتوں كى رضامندى اور نكاح كى باقى شروط اور اركان كے ساتھ نكاح ہو گيا تو اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اور اس وقت يہ نكاح شغار نہيں ہو گا " انتہىٰ

اس سے يہ واضح ہوا كہ آپ نے ايک عظيم شرعى ممنوعہ كام كا ارتكاب كيا ہے، چہ جائيكہ يہ معاشرتى اور نفسياتى طور پر بھى عظيم اور بڑا ممنوعہ كام ہے.

اس ليے آپ كو يہى نصيحت ہے كہ آپ اس شادى كى تكميل سے اجتناب كريں، اور آپ كسى بھى بناوٹى عذر كو قبول مت كريں، بلكہ آپ اپنے بہنوئى پر واضح كر ديں كہ دونوں عقدوں كى اكھٹى شرط ركھنا حرام ہے، اور اس طرح دونوں عقد نكاح ہى فاسد ہو جائيں گے، اسے اپنى بيوى كو اپنے پاس ہى ركھنا چاہيے ليكن اسى وقت اس كو يہ بھى چاہيے كہ وہ نكاح دوبارہ كرے، كيونكہ وٹہ سٹہ كى بنا پر نكاح فاسد تھا.

اور اگر وہ ايسا كرنے سے انكار كر دے اور اسے چھوڑنے پر اصرار كرتا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالىٰ كا فرمان ہے:

اور اگر مياں اور بيوى جدا ہو جائيں تو اللہ تعالى اپنى وسعت سے ہر ايک كو بے نياز كر ديگا، اللہ تعالىٰ بڑى وسعت والا حكمت والا ہے۔ ( النساء: 130 )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ