سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(212) مروّجہ معاشرتی رسموں کی شرعی حیثیت
  • 25327
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 717

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شریعت میں گیارہویں اور رسم چالیسواں یا اس قسم کی دوسری رسموں کا ذکر آیا ہے ؟ اگر نہیں تو یہ ہمارے اسلامی نظام کا حصہ کیسے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ رسمیں بدعت ہیں، ان سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ صحیح حدیث میں ہے:

’ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا هٰذَا مَا لَیْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ ‘(صحیح البخاری،بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ،رقم:۲۶۹۷)

’’ یعنی جو دین میں اضافہ کرے وہ مردود ہے۔‘‘

    ھذا ما عندی والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:222

محدث فتویٰ

تبصرے