سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(176) قبرستان کی جگہ پر ذاتی مکان بنانا

  • 25291
  • تاریخ اشاعت : 2018-03-28
  • مشاہدات : 112

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جناب مفتی صاحب!

گزارش ہے کہ ایک آدمی نے تقریباً ایک مرلہ زمین خریدی ، جس کے ساتھ ہی قبرستان ہے۔ قبروں پر مٹی نہ ڈالنے اور بارشوں کی وجہ سے مٹی بہہ جانے سے قبروں کا نشان مٹ چکا ہے۔ مذکورہ آدمی نے علم ہونے کے باوجود قبرستان کی جگہ میں سے تقریباً ۳ مرلے ساتھ ملالی ہے اور اس پر عمارت بنا کر گندم پیسنے والی چکی اور دھان چھڑنے والی مشین نصب کردی ہے۔ اسی طرح شخص مذکور نے اپنی رہائش کے لیے تقریباً ۴ مرلے جگہ خرید کر اس کے ساتھ بھی قبرستان کی تقریباً چار مرلے جگہ ملا کرمکان بنا لیا ہے اور اس میں رہائش پذیر ہے۔

کیا ایسی جگہ(قبرستان) پر رہائش رکھنا اور کاروبار کرنا جائز ہے ؟ نیز قبروں پر عمارت بنانے کا کیا گناہ اور قیامت کو کیا سزا ہو گی؟ (سائل: مولوی عتیق الرحمن ولد حافظ محمد عبداللہ، تحصیل و ضلع گوجرانوالہ)(۲۴ دسمبر۱۹۹۹ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبروں کی بے نشان زمین کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے کا کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ وہ قطعۂ ارضی وقف نہ ہو بایں صورت یہ جگہ قبرستان کے حکم میں نہیں رہتی۔ علامہ ملا علی قاری نے’’مرقاۃ‘‘(۱/۴۵۶) میں اس امر کی تصریح کی ہے۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’’بہرحال نزاع اس قبر میں ہے جو ظاہر ہو ورنہ بطنِ ارض میں نامعلوم کتنی قبریں ہیں۔ جن پر ہم چلتے پھرتے ہیں۔ پس قبر مندرس(بے نشان) اور قبر ظاہر کو ایک حکم نہیں دے سکتے۔(احکام جنائز،ص:۲۵۶) نیز ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: جب قبرستان کا نام و نشان نہ رہے تو اس کا حکم قبر کا نہیں رہتا۔‘‘ (فتاویٰ اہل حدیث:۱/۳۴۴)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:200

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ