سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(171) کیا عذابِ قبر حق ہے؟

  • 25286
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 731

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض ملحدین عذاب قبر کا انکار کرتے ہیںا ور کہتے ہیں کہ قبر میں عذاب نہیں ہوگا۔ کیونکہ قبر میں انسان کا صرف جسم ہوگا۔ اس کی روح آسمان پر ہوگی اور یہ سارے عذاب قیامت کے دن دیے جائیں گے ۔ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ فرعون اور آل فرعون کو ہر روز صبح و شام عذاب دیا جاتا ہے جب کہ فرعون کی لاش تو مصر یا پھر فرانس میں رکھی ہے اور جو سیلاب میں بہہ گیا یا جو جل گیا، جیسے ہند وجلاتے ہیں یا کہ اس کے جسم کی راکھ بن گئی اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 ’’عذابِ قبر‘‘ کا مسئلہ کتاب و سنت کی بے شمار نصوص میں ثابت شدہ ہے۔ کسی مومن کے لائق نہیں کہ اس کا انکار کرے ور جہاں تک عذاب کی کیفیت کا تعلق ہے سو یہ برزخی معاملہ ہے جس کا دنیا میں فیصلہ کرنا انسانی استطاعت سے ماوراء ہے۔ اکٹھے دو سوئے ہوئے آدمی بحالت خواب مختلف مناظر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک نعمتوں میں اور دوسرا عذاب میں، کسی کو دوسرے کی حالت کا شعور نہیں ہونے پاتا، حالانکہ وہ ایک ہی جگہ آرام فرما ہیں۔ سو برزخی معاملہ تو بہت وسیع ہے۔ جس کا ادراک انسانی دائرہ اختیار سے خارج ہے۔ بس اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی حقیقت حال منکشف ہو جاتی ہے۔

یاد رہے نصوص شریعت میں کیڑے نکالنا الحاد کے علمبرداروں کا امتیازی نشان ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ محدثین کرام کی خدمات نصف النہار کی طرح عیاں ہیں کھرے اور کھوٹے سکے کا بازار علیحدہ علیحدہ جما دیا ہے۔﴿ فَمَنْ شَائَ فَلْیُؤْمِنْ وَ مَنْ شَائَ فَلْیَکْفُرْ﴾ہزاروں افراد کے حالاتِ زندگی کو معیارِ حق کی کسوٹی پر پرکھنا ان کا عظیم کارنامہ ہے جن کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے۔ اللہ رب العزت ان کی مساعیٔ جمیلہ قبول فرما کر اعلیٰ علیین میں مقام عنایت فرمائے۔ اورہمیں شکر گزاری کی توفیق بخشے! احسان فراموش ہونا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

ملحدین کو قائل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ حسب استطاعت پہلے اپنے کو ضروری علم سے مسلح کریں پھر علی وجہ البصیرت ان کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیں۔ توامید ہے کہ دعوت نتیجہ خیز ثابت ہو گی اور اشکالات کی صورت میں پختہ کار اہل علم کی طرف رجوع کریں۔ اور ایک عام آدمی کے لیے بھی یہ ہے کہ اپنی زبان میں موضوع سے متعلق صحیح العقیدہ علماء کی کتابوں کو پڑھ کر کما حقہ واقفیت حاصل کرکے ٹھوس دلائل کی روشنی میں عقل و نقل سے ان کو قائل کرنے کی سعی کرے۔ (وَالتَّوْفِیْقُ بِیَدِ اللّٰہِ)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

جلد:3،کتاب الجنائز:صفحہ:196

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ