سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(1072) عید کی نماز کھلے میدان میں
  • 25082
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 808

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل اکثر شہروں اور دیہات میں رواج ہے کہ عیدین پڑھنے کے لیے گائوں کے باہر یا کہیں مناسب جگہ پر کچھ زمین حاصل کرکے اسے عیدگاہ کے طور پر مخصوص کرلیا جاتا ہے اور اس کے اردگرد چار دیواری کرلی جاتی ہے۔ وہ سارا سال بیکار پڑی رہتی ہے صرف سال میں دو دفعہ اس میں عید پڑھی جاتی ہے کیا یہ جائز ہے؟ کیا کھلی جگہ پر عید پڑھنا لازمی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز عید کھلی جگہ جنگل میں یا ایسی جگہ جہاں چار دیواری نہ ہو، کھلے میدان میں پڑھنے کی سعی کرنی چاہیے۔ بصورتِ دیگر جیسے بھی ممکن ہو، نمازِ عید پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن سال بھر مخصوص ایام کے لیے جگہ روکے رکھنا غیر درست فعل ہے۔

صدقہ فطر کے بعض مسائل

امریکہ میں مسلمانوں کے بعض علاقوں میں، اور ملک کے بعض دوسرے حصوں میںبعض اوقات وہ خوردنی اشیا دستیاب نہیں ہوتی جن کا ذکر شرعی نصوص میں کیا گیاہے۔ اسی طرح بعض اوقات بہت سے غریب مسکین مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ان اشیاء خوردنی سے کیسے استفادہ کرسکتے ہیں، اس صورتِ حال میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:847

محدث فتویٰ

تبصرے