سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(212) وقت سے پہلے اذان دینا

  • 2492
  • تاریخ اشاعت : 2013-02-17
  • مشاہدات : 1015

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نقشہ اوقات نماز جو حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کا تحریر کردہ ہے اس میں صبح صادق کا ٹائم ساڑھے چار ہے اور بندہ صبح کی اذان چار بج کر پچیس منٹ پر یعنی پانچ منٹ قبل دیتا ہے روزانہ ہی ایسا کرتا ہے اس میں کوئی حرج ہے یا زیادہ گناہ ہے یا کہ کوئی گناہ نہیں؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اذان فجر کی ہو یا کسی اور نماز کی قبل از وقت نہیں کہی جا سکتی۔ پھر فجر و مغرب کی اذانوں میں تو زیادہ پابندی کی ضرورت ہے کیونکہ کسی نے روزہ رکھنااور کسی نے روزہ کھولنا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَكُلُوا وَاشْرَ‌بُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‌ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ... ﴾ الآية    (البقرہ:۱۸۷)
’’اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے سفید دھاگہ سیا ہ دھاگے سے فجر کے وقت پھر رات تک اپنے روزے کو پورا کرو۔‘‘

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ